اسلام آباد، خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں ایک مرتبہ پھر زلزلہ

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی — فائل فوٹو: رائٹرز
اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی — فائل فوٹو: رائٹرز

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں پیر کی صبح ایک مرتبہ پھر زلزلہ محسوس کیا گیا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پرزلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز کوہِ ہندوکش افغانستان تھا جبکہ اس کی گہرائی 157 کلو میٹر تھی۔

پیر کی صبح 6 بج کر 11 منٹ پر آنے والا زلزلہ پشاور، مالاکنڈ، چارسدہ، مردان، وزیرستان، دیر، چترال، نوشہرہ، مانسہرہ، ہزارہ ڈویژن، بٹ گرام کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں بھی محسوس کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب زلزلہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟

رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح آنے والے اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، البتہ زلزلے سے عوام میں خوف ہراس پھیل گیا اور لوگ قرآنی آیات پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں 3.8 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 24 ستمبر کو پنجاب اور آزاد کشمیر میں 5.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس نے جہلم اور آزاد کشمیر کے علاقے میر پور کو سب سے زیادہ متاثر کیا تھا۔

اس زلزلے میں 38 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سے مختلف علاقوں میں کچھ دن کے وقفے سے زلزلے آنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ماہ ستمبر میں آنے والے زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنسنے کے ساتھ ساتھ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’اپنے گھر کی کوئی ایک دیوار سلامت نہیں دیکھی‘

اُس وقت زلزلہ پیما مرکز نے بتایا تھا کہ یہ زلزلہ سہ پہر 4 بجے آیا تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22.3 کلومیٹر دور تھا۔

اس زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی وہیں اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔

مذکورہ زلزلے کے 2 روز بعد 26 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر آزاد کشمیر لرز اٹھا تھا جس کے نیتجے میں مزید 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ پہلے زلزلے کے نتیجے میں مخدوش ہوجانے والی تعمیرات بھی زمین بوس ہوگئیں تھی۔

بعدازاں 9 اکتوبر کو بھی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلہ محسوس کیا تھا جس کی شدت 5.2 جبکہ گہرائی 180 کلومیٹر تھی۔

زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے 2 اکتوبر کو حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے 38 لواحقین خاندانوں کو 5، 5 لاکھ روپے کے امدادی چیکس فراہم کیے گئے تھے۔

قبل ازیں یکم اکتوبر کو حکومتِ آزاد کشمیر نے میر پور اور زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا تھا تاکہ متاثرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔