مصباح الحق تین کھلاڑیوں کے خراب رویے سے مایوسی کا شکار

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

دورہ آسٹریلیا کے لیے اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے مصباح الحق سخت فیصلے کر سکتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
دورہ آسٹریلیا کے لیے اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے مصباح الحق سخت فیصلے کر سکتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق چند کھلاڑیوں کے رویے اور غیرپیشہ ورانہ رویے کے سبب انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔

عالمی نمبر ایک پاکستان کو حال ہی میں 8ویں نمبر پر موجود سری لنکا کی ناتجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر ٹی20 سیریز میں 0-3 کی کلین سوئپ کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور ٹی20 کی نمبر ون ٹیم کی اس طرح سے شکست اور کھلاڑیوں کے رویے نے مصباح کو شدید مایوس کیا ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر نیم عریاں تصویر لگانے پر واٹسن نے معافی مانگ لی

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پہلی مرتبہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمے داریاں نبھانے والے مصباح کو سب سے زیادہ مایوسی اس بات سے ہوئی کہ چند کھلاڑی مینجمنٹ کی ہدایات پر عمل کرنے میں ہچکچاتے ہیں اور اپنی فٹنس کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے مکمل ٹریننگ نہیں کرتے۔

معتبر ذرائع نے مزید بتایا کہ مصباح اس بات سے بھی ناخوش ہیں کہ کھلاڑی ٹریننگ کے حوالے سے بہت سہل پسندی سے کام لیتے ہیں اور اپنے کرکٹ ڈسپلن کو بہتر کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی محنت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مصباح الحق، کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں کیونکہ جب بھی ٹیم خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو وہ ذمے داری لینے سے کتراتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آصف کی جارحانہ اننگز رائیگاں، احمد شہزاد نے تن تنہا سینٹرل پنجاب کو فتح دلا دی

اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ کہ ہیڈ کوچ کو تین کھلاڑیوں وہاب ریاض، عماد وسیم اور حارث سہیل کے رویے پر شدید حیرانی ہوئی کیونکہ تینوں کی کھلاڑیوں کا رویہ انتہائی غیرپیشہ ورانہ ہے۔

ذرائع کے مطابق جب بھی ٹریننگ یا نیٹ میں پریکٹس کی بات کی جائے تو یہ کھلاڑی کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتے ہیں اور ہر مرتبہ ان کے پاس کوئی نیا بہانہ تیار ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں خصوصاً حارث سہیل نے انتہائی خراب عادت اپنا لی ہے کہ جب بھی ان سے ٹریننگ یا نیٹ پریکٹس کی بات کی جائے تو گھٹنے کی تکلیف کا عذر پیش کر کے ٹریننگ سے دور بھاگ جاتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مصباح الحق کو اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مکی آرتھر کا وہاب ریاض کو ٹیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ درست تھا اور وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے درکار پیشہ ورانہ معیار کو پورا کرنے کو تیار نہیں۔

مزید پڑھیں: 27 اکتوبر کو شروع ہونے والے 33ویں نیشنل گیمز ملتوی

ذرائع نے مزید بتایا کہ فیصل آباد میں جاری نیشنل ٹی20 کپ کے دوران دو کھلاڑیوں نے اپنی ٹیموں کے کوچز کو کہا کہ وہ میچ دن صبح اسٹیڈیم میں پہنچ جائیں گے لیکن جب مصباح کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے خاصی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان ٹیموں کے ہیڈ کوچز کو ہدایت کی وہ کھلاڑیوں میچ سے ایک دن قبل ٹیم کو جوائن کرنے کا پابندی کریں۔

مصباح نے سابق کوچ مکی آرتھر اور ان کے سپورٹ اسٹاف کے حوالے سے بھی تعجب کا اظہار کیا جنہوں نے بابر اعظم کے سوا تمام فارمیٹس میں کوئی بھی مستند بلے باز تیار کرنے کی کوشش تک نہ کی۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال کچھ اچھی نہیں ہے اور مصباح الحق آنے والے دنوں میں دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کا انتخاب کرتے ہوئے بحیثیت چیف سلیکٹر چند سخت فیصلے کرسکتے ہیں ۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اس وقت لیگ اسپنرز یاسر شاہ اور شاداب خان کی کارکردگی اور فارم سے مطمئن نہیں اور اسی وجہ سے وہ ایک عرصے سے نظر انداز کیے جا رہے لیگ اسپنر زاہد محمود کو موقع دینے کا سوچ رہے ہیں۔

اسی طرح محمد عامر اور وہاب ریاض کی جانب سے طویل دورانیے کی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد مصباح نئے فاسٹ باؤلرز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ کی نظریں نوجوان اور تیز فاسٹ باؤلر نسیم شاہ پر مرکوز ہیں جو انڈر19 اور اے کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کر کے اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں اور چند حلقے انہیں اس وقت پاکستان کا تیز ترین باؤلر تصور کرتے ہیں۔

اب دیکھنا ہو گاکہ دورہ آسٹریلیا کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو کپتان برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہیں یا پھر اظہر یا اسد شفیق میں سے کسی کو یہ ذمے داری سونپی جاتی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں سرفراز کا ٹیسٹ کپتان کے عہدے پر برقرار رہنا مشکل نظر آتا ہے۔