بھارتی دارالحکومت میں متعدد اقدامات کے باوجود فضا کا معیار ابتر

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

بھارت میں دنیا کے 14 سب سے زیادہ آلودہ شہر موجود ہیں جن میں نئی دہلی چھٹے نمبر پر آتا ہے — فوٹو: اے پی
بھارت میں دنیا کے 14 سب سے زیادہ آلودہ شہر موجود ہیں جن میں نئی دہلی چھٹے نمبر پر آتا ہے — فوٹو: اے پی

بھارتی دارالحکومت میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے متعدد نئے اقدامات کیے جانے کے باوجود فضا کا معیار ابتر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے فضا کے معیار کے انڈیکس برائے نئی دہلی میں بھارتی دارالحکومت 299 نمبر پر رہا جو تجویز کردہ سطح سے 6 گنا نیچے ہے۔

انڈیا گیٹ کے باہر آئس کریم فروش اندرجیت گپتا کا کہنا تھا کہ 'عوام ٹھیک طرح سے سانس بھی نہیں لے پارہی ہیں'۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی صحت کیلئے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ قرار

واضح رہے کہ بھارت میں دنیا کے 14 سب سے زیادہ آلودہ شہر موجود ہیں جن میں نئی دہلی چھٹے نمبر پر آتا ہے۔

گاڑیوں اور صنعتی فضلے، پٹاخوں کی آلودگی اور عمارتوں سے نکلنے والا دھول 2 کروڑ کی آبادی والے شہر میں آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔

آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے گزشتہ روز سڑکوں پر نجی گاڑیوں کو کم کرنے کے لیے بس اور میٹرو سروسز میں اضافے اور ڈیزل کے جنریٹرز کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جہاں نئی دہلی میں پھیلی فضائی آلودگی کی کئی وجوہات ہیں وہیں محقق کہتے ہیں کہ پڑوسی ریاست میں فصلوں کا جلایا جانا بھی شہر کی 10 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہے۔

— فوٹو: اے پی
— فوٹو: اے پی

اکتوبر کے مہینے میں پڑوسی ریاست ہریانا اور دیگر میں کسان پابندی کے باوجود کاشت کے فضلے کو آگ لگا کر کھیتوں کو اگلی فصل کے لیے تیار کرتے ہیں اور ان سے نکلنے والا دھواں نئی دہلی پہنچ کر وہاں آلودگی کی سطح میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فضائی آلودگی سے زیادہ اموات کے شکار سرفہرست ممالک میں شامل

صرف پنجاب ہی میں ہر سال 2 کروڑ ٹن فصلوں کا فضلہ پیدا ہوتا ہے جن کا ایک تہائی حصہ جلادیا جاتا ہے۔

زمین کو صاف کرنے کا یہ نہایت سستا طریقہ ہے جس سے فصلوں کو کھانے والے کیڑے مکوڑے بھی ختم ہوجاتے ہیں اور راکھ سے زمین مزید زرخیز ہوجاتی ہے تاہم اس سے نکلنے والا دھواں انسان کے جگر کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

پنجاب کے شہر امرتسر کے رہائشی کسان راوی کاہلو کا کہنا تھا کہ 'میں مانتا ہوں کہ فصلوں کو جلانا ٹھیک نہیں مگر ہم غریب کسان اور کیا کریں'۔