رواں مالی سال: پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 64 فیصد کم ہوگیا

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2019

ای میل

مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 54 کروڑ اسی لاکھ ڈالر رہا— فائل فوٹو: اے ایف پی
مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 54 کروڑ اسی لاکھ ڈالر رہا— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک کے دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی۔

رواں سال اگست کے مقابلہ میں ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 35 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کم ہوا۔

مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ، جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 54 کروڑ اسی لاکھ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اس ہی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب 28 کروڑ ستر لاکھ ڈالر تھا۔

مزید پڑھیں: مالی سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ

اسٹیٹ بینک کے دستاویزات کے مطابق مہینے کے حساب سے دیکھا جائے تو ستمبر 2019 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 25 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اس ہی ماہ میں خسارہ 1 ارب 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا۔

ستمبر 2018 کے مقابلے میں ستمبر 2019 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1 ارب 19 لاکھ ڈالر کم ہوا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ستمبر کے مہینے میں برآمدات اور درآمدات میں فرق کا گراف شیئر کیا جس کے مطابق برآمدات میں 5.9 فیصد اضافہ اور درآمدات میں 18.6 فیصد کمی ہوئی۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائے جانے والے سرمائے میں اضافے کے حوالے سے بھی گراف شیئر کیا جس کے مطابق ستمبر 2019 میں ترسیلات زر میں 17.6 فیصد اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو درست سمت گامزن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ برآمدات کو بڑھا کر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی لائی گئی ہے۔