جسٹس عیسیٰ کیس پر بینچ کی تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس کو نہ بھیجنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2019

ای میل

عدالت عظمیٰ جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
عدالت عظمیٰ جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعتیں 28 اکتوبر کو مقرر کردیں۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ تمام سماعتیں 28 اکتوبر کو مقرر کرنے کا حکم ان زبانی ریمارکس کو واپس لینے کے بعد سامنے آیا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کو بتایا گیا تھا کہ فل کورٹ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے سے اس معاملے کی سماعتیں جاری رکھنے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا، جب جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے بتایا تھا کہ جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سماعت میں موجود نہیں ہوں گے اور وہ آئندہ پیر تک اپنی ڈیوٹی پر واپس آئیں گے۔

اگر یہ معاملہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھیج دیا جاتا تو یہ گزشتہ 5 ہفتوں میں دوسری مرتبہ ہوتا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ان کو بھیجا گیا۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کیلئے 10 رکنی فل کورٹ تشکیل

قبل ازیں جب سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت اس معاملے کو آگے لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن بینچ کے ایک رکن کے خاندان میں انتقال ہوگیا ہے اور وہ اس سماعت میں شامل نہیں ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ جج کی جانب سے ایک ہفتے کے لیے چھٹی کی درخواست کی گئی تھی جس کے بعد بینچ اراکین نے ایک دوسرے سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو آگے بڑھانا مناسب نہیں ہوگا، 'لہٰذا ہم بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں، جس کے بارے میں وکیل کے ذریعے جلد پتہ چل جائے گا'۔

اس موقع پر وکیل نے جواب دیا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے بعد وہ اپنے دلائل دینا چاہیں گے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ وکیل کی مرضی نہیں، یہ شائستگی سے باہر تھا کہ بینچ نے وکیل کو بتانے کا فیصلہ کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ 'ہم بینچ سے اٹھ رہے ہیں اور امید ہے جلد ہی ملاقات ہوگی'۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی آئینی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوا تھا۔

17 ستمبر کو اس معاملے پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا تھا اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے اس 7 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سنی تھی، اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے ججز پر اعتراض اٹھایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ 'جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی (کیس میں) دلچسپی ہے، اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گیے اس طرح مذکورہ کیس سے ان دو ججز کا براہ راست مفاد وابستہ ہے'۔

بعد ازاں اس وقت بینچ میں شامل جسٹس طارق مسعود نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا، اس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے، ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز کی آئینی درخواست کی سماعت کیلئے فل کورٹ کی استدعا

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے دونوں ججز، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود، نے خود کو بینچ سے الگ کردیا تھا جس سے بینچ تحلیل ہوگیا تھا۔

بینچ کی تحلیل کے بعد معاملہ چیف جسٹس کے پاس گیا تھا، جنہوں نے 20 ستمبر کو صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے نیا 10 رکنی فل کورٹ تشکیل دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے اس 10 رکنی بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔

اس بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت بھی کی تھی۔

بینچ تحلیل کے فیصلے پر وکلا کا سخت ردعمل

عدالت عظمیٰ کی جانب سے بینچ کی دوبارہ تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے کے ریمارکس پر سینئر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ ایک جج کی عدم موجودگی کے باعث دو سماعتیں کرنے والے بینچ کی تحلیل سمجھ سے بالاتر ہے۔

سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ اس کیس میں کیا جلد بازی ہے یہ سمجھ نہیں آرہا جبکہ کسی نے بینچ تحلیل کرنے کی استدعا بھی نہیں کی۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید رضوی نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کے کیس میں 2 ماہ 5 دن کیس چلا، تاہم اس کیس میں پہلے دن سے لگ رہا ہے کہ ان ججز کا بس چلے تو یہ گھنٹے میں فیصلہ کردیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ کسی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے کہ جب بینچ تشکیل دیا جائے تو وہ تحلیل نہیں ہوسکتا، ان ججز کا کندیکٹ نظر آرہا ہے کہ انصاف نہیں ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین سید امجد علی شاہ نے بھی میڈیا سے بات کی اور کہا کہ ہم بھی قاضی فائز عیسٰی پر صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں میں فریق تھے اور تمام درخواست گزار موجود تھے، تاہم ایک جج کی غیر موجودگی کی وجہ سے بینچ کو تحلیل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس عیسیٰ کے الزامات مسترد کردیے

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی حکم ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے انصاف نہیں ہوگا، بغیر کسی گراؤنڈ کے بینچ تحلیل کردیا گیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بینچ کے علاوہ دوسرے بینچ پر ہمارا اعتراض ہوگا، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ یہی بینچ کیس سنے کیونکہ ایک جج دو سماعتیں سن چکے ہیں۔

اس معاملے پر سینئر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ یہ روایت ہے جب ایک بینچ سماعت کرتا ہے تو پورا کیس وہی سنتا ہے، یہ فل کورٹ بنایا گیا تها اور چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ کوئی دوسرا بینچ بنائیں۔

حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک جج نہیں ہے تو انتظار کیا جاسکتا ہے، یہاں کوئی مجبوری نہیں ہے، سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا حکم موجود ہے اور یہ تبدیل نہیں ہوسکتا، لہٰذا اگر ایسا ہوا تو یہ غیر آئینی اقدام ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔

اپنے اعتراضات کی حمایت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس 427 (دوسری درخواست) پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں 'تعصب' ظاہر کیا اور وہ منصفانہ سماعت کی اپنی ساخت کھوچکی ہے۔

اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی ریفرنس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اگر وہ قانون کے مطابق ہو لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں پر غیر قانونی طریقے سے خفیہ آلات اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کرکے سروے کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ رواں سال مئی میں شروع ہوا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی بی سی کا جسٹس عیسیٰ کے کیس کو دائرہ کار سے باہر لے جانے پر عدالت سے رجوع

تاہم اس ریفرنس سے متعلق ذرائع ابلاغ میں خبروں کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت عارف علوی کو متعدد خطوط لکھے اور پوچھا کہ کیا یہ خبریں درست ہیں۔

بعدازاں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے جج کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے اور ان سے جواب مانگنے پر ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

تاہم سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اس ریفرنس کو خارج کردیا اور کہا کہ کئی وجوہات کی بنا پر کونسل کو صدر مملکت کو خطوط لکھنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں لگا کہ وہ مس کنڈکٹ کا باعث بنے اور اس کی بنیاد پر انہیں (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جاسکے۔