بریگزٹ سے جنوبی افریقہ کرکٹ کا کیا فائدہ ہو گا؟

23 اکتوبر 2019

ای میل

فاف ڈیو پلیسی نے کولپاک ڈیل کو جنوبی افریقی کرکٹ کی موجودہ تباہی کا ایک سبب قرار دیا— فوٹو: اے ایف پی
فاف ڈیو پلیسی نے کولپاک ڈیل کو جنوبی افریقی کرکٹ کی موجودہ تباہی کا ایک سبب قرار دیا— فوٹو: اے ایف پی

بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ شکست پر مایوس جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیو پلیسی نے امید ظاہر ہے کہ برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی(بریگزٹ) کے نتیجے میں جنوبی افریقی کرکٹ بہتر ہو سکتی ہے۔

بھارت نے جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ سیریز میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 0-3 کی کلین سوئپ شکست دی جس پر جنوبی افریقی کپتان نے خود اعتراف کیا کہ بھارت میں شکست نے ہمیں ذہنی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی جنوبی افریقہ کیخلاف سب سے بڑی فتح، سیریز میں کلین سوئپ

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے یورپ سے علیحدگی کے نتیجے میں امیگریشن کی سخت شرائط عائد ہوں گی جس کے نتیجے میں جنوبی افریقی کھلاڑی کم تعداد میں کاؤنٹی چیمپیئن شپ کا حصہ بنیں گے۔

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ان دنوں شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ورلڈ کپ میں ابتر کارکردگی کے بعد پروٹیز کو دورہ بھارت پر بھی بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ان تمام تر مسائل کی ایک بڑی وجہ اہم جنوبی افریقی کھلاڑیوں کا اپنے ملک کے بجائے انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کو ترجیح دینا ہے۔

2003 سے اب تک 60 سے زائد جنوبی افریقی کھلاڑی کولپاک ڈیل پر دستخط کر چکے ہیں جہاں اس معاہدے کی بدولت وہ وی یورپیئن رہائش کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے اپنی پسند کی کاؤنٹی ٹیم سے کھیل سکتے ہیں اور ان کو 'غیرملکی کھلاڑی' بھی تصور نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: سرفراز کی قیادت سے برطرفی پر حکومتی ایوانوں میں ہلچل

تاہم کولپاک ڈیل پر دستخط کرنے کے بعد کھلاڑی اپنے ملک کی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔

اگر برطانیہ بریگزٹ کے ذریعے یورپ سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو اس کا جنوبی افریقی کرکٹ کو فائدہ ہو گا اور 2021 میں کرکٹرز کے لیے کولپاک سسٹم کا خاتمہ ہو جائے گا۔

جنوبی افریقہ کے کئی نامور اوت مستقبنل کے اسٹارز تصور کیے جانے والے کھلاڑیوں نے نوجوانی میں کولپاک ڈیل پر دستخط کر کے کاؤنٹی کرکٹ کو ترجیح دی جس کی وجہ کم معاوضے اور نیشنل ٹیم میں مستقل مواقع نہ ملنا تھی۔

ان کھلاڑیوں میں رلی روسو، کائل ایبٹ، ڈوانے اولیویئر اور وین پارنیل سمیت کئی کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے لیے کھیلنے پر کولپاک ڈیل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: ٹی10 لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اس سلسلے میں ایک اور قابل ذکر نام آف اسپنر سائمن ہارپر کا ہے جو گزشتہ 2سال سے ایسیکس کاؤنٹی کے لیے عمدہ کھیل پیش کر رہے ہیں لیکن 2015 سے جنوبی افریقہ کے لیے کسی بھی قسم کی کرکٹ نہیں کھیلی۔

فاف ڈیو پلیسی نے کہا کہ یہ کرکٹ جنوبی افریقہ کے لیے انتہائی افسوسناک بات ہے کہ انہیں اپنے بہترین کھلاڑی کی خدمات میسر نہیں، سائمن ہارپر کا موجودہ سیزن بہت شاندار رہا اور غیرملکی دوروں پر وہ جنوبی افریقہ کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان نے امید ظاہر کی کہ ڈین ایلگر اور کوئنٹن ڈی کوک نے جو عمدہ بیٹنگ کی ہے وہ اس کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ٹیم کو آگے لے کر جائیں گے۔