کرکٹ بورڈ نے بابر اعظم کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2019

ای میل

پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) بھی اپنی 'غیر متوقع کارکردگی' کے لیے دنیا میں کوئی ثانی نہیں رکھتا اور اس کا نظارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم کررہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ انسان جو کچھ اپنی آنکھ سے دیکھتا اور کان سے سنتا ہے وہ بات اس کو طویل عرصے تک یاد رہتی ہے۔ اسی طرح پاکستانی قوم کے 'حافظے' کو دیکھتے ہوئے کرکٹ بورڈ بھی ہماری ٹیم کے ساتھ اسی نظریے پر عمل پیرا ہے اور شائقین کو حیران کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بورڈ بار بار یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہاں ایک کرکٹ بورڈ بھی ہے جو 'ایک عدد کرکٹ ٹیم چلا رہا ہے'۔

قومی ٹیم کے انتخاب کے حوالے سے بورڈ، سلیکشن کمیٹی اور ٹیم منیجمنٹ کو تو 'رات کے کھانے' کی طرح روزانہ کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس سے کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑتا لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ کوئی ایسا کام کیا جائے کہ عوام کچھ عرصہ تو یاد رکھیں، سو فیصلہ ہوگیا۔

جی ہاں، سرفراز احمد کو گزشتہ ہفتے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا اور یہ فیصلہ سرفراز اور قومی ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کافی حد تک متوقع تھا۔

تاہم 'عوام کو حیران و پریشان' کرنے کی تھیوری کو قابلِ عمل بنانے کے لیے انہیں ٹی20 کی قیادت سے بھی ہٹا دیا گیا، جی ہاں! موجودہ عالمی نمبر ایک اور لگاتار 11 سیریز جیتنے کے عالمی ریکارڈ کی حامل ٹیم کے کپتان کو منصب سے برطرف کردیا گیا۔

شاید یہ دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا جب عالمی نمبر ایک ٹی20 ٹیم کے کپتان کو محض 2 سیریز ہارنے کے بعد قصہ پارینہ بنا دیا گیا۔

تاہم سرفراز کی برطرفی یا قومی ٹیم سے اخراج سے بڑھ کر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بڑا جوا کھیلتے ہوئے اسٹار سے تیزی سے سپر اسٹار بننے والے نوجوان کرکٹر بابر اعظم کے کیریئر کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔

پی سی بی نے چند ماہ قبل ہی بابر کو ٹیم کے نائب کپتان کی ذمے داری سونپی تھی اور وہ یقیناً اس منصب کے اہل بھی تھے تاہم صرف ایک سیریز میں قومی ٹیم کی کلین سوئپ شکست کے بعد ہی سرفراز کو ہٹاکر انہیں قیادت کا بار سونپ دیا جانا جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔

بابر کی قابلیت، صلاحیت اور اہلیت پر کوئی شبہ نہیں، بے شک وہ قومی ٹیم کا اثاثہ ہیں لیکن ان کی قائدانہ صلاحیتیں جانچے بغیر انہیں انتہائی جلد بازی میں ٹیم کی قیادت کے منصب پر فائز کرنا خود اس نوجوان کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ اب تک کی کارکردگی سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

انڈر19 سطح سے لے کر ڈومیسٹک کرکٹ تک بطور کپتان بابر کا ریکارڈ بالکل بھی متاثر کن نہیں اور ان کے چند فیصلے ناتجربہ کاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس کی سب سے بڑی مثال ہم نے حال ہی میں ختم ہونے والے نیشنل ٹی20 میں دیکھی۔

نیشنل ٹی20 کپ میں بابر اعظم کو سینٹرل پنجاب کی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی جس میں کامران اکمل، احمد شہزاد اور عمر اکمل جیسے بلے باز ٹیم کا حصہ تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم سب سے آخری نمبر پر رہی۔

کم از کم میری تو رائے یہی ہے کہ کامران اکمل اب بھی ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کے بہترین اور جارح مزاج بلے باز ہیں۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بطور اوپنر ان کی بہترین کارکردگی یہ ثابت بھی کرتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ قومی ٹیم میں ان کی عدم شمولیت ایک معمہ ہے۔

تاہم سینٹرل پنجاب کے کپتان کی حیثیت سے بابر اعظم نے اپنی جگہ قربان کرنے کے بجائے بطورِ اوپنر کھیلنے کو ترجیح دی اور کامران اکمل کو تیسرے نمبر پر کھیلنا پڑا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ کھلاڑی اچھی کارکردگی پیش کرسکے اور ٹیم کی صورتحال تو یہ رہی کہ یہ صرف ایک میچ ہی جیت سکی جو احمد شہزاد کی ناقابلِ شکست سنچری کی وجہ سے ملی۔

گوکہ بابر اعظم نے ایونٹ میں بلّے سے چند اچھی اننگز ضرور کھیلیں لیکن وہ ٹیم میں موجود ایک کھلاڑی سے اس کی افادیت کے مطابق کام لینے میں ناکام رہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر بابر اعظم ایک ڈومیسٹک ٹی20 ٹیم کے کپتان ہوتے ہوئے ایک کھلاڑی کو اس کی افادیت کے مطابق کھلانے سے قاصر ہیں تو کیا وہ قومی ٹیم میں انٹرنیشنل کرکٹ کے شدید دباؤ میں کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کر پائیں گے؟

بابر اعظم پاکستانی ٹیم کے سب سے بہترین اور مستقل مزاجی سے اسکور کرنے والے بلے باز ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں قیادت کے بوجھ کو برداشت کرتے ہوئے اپنی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھ پائیں گے؟

تاریخ شاہد ہے کہ کرکٹ میں بڑے بڑے بلے باز آئے اور اپنی شاندار کارکردگی سے اپنی ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کرایا لیکن جب کبھی ان پر قیادت کا بوجھ پڑا تو وہ نہ اچھے کپتان ثابت ہوسکے اور نہ ان کی کارکردگی میں تسلسل قائم رہا۔

اس کی سب سے بڑی مثال سچن ٹنڈولکر، راہول ڈراوڈ، برائن لارا، ظہیر عباس اور دیگر متعدد کھلاڑی ہیں جو قیادت کا بوجھ برداشت نہ کرسکے اور تنازعات کا شکار ہوکر اپنے منصب سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بورڈ ابھی سرفراز احمد کی زیرِ نگرانی بابر کو محدود اوور کی کرکٹ میں قیادت کے لیے تیار کرتا تاکہ وہ کچھ تجربہ حاصل کرکے بہتر طور پر یہ ذمہ داری انجام دے پاتے۔ لیکن اچانک ہی اتنی بڑی ذمہ داری دینے سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ وہ شاید دباؤ کو برداشت نہ کرسکیں۔

دورہ آسٹریلیا قومی ٹیم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد فتح اعتماد کو بڑھانے کا سبب بنے گی، لیکن اگر یہاں بھی شکست ہوئی تو ٹیم تو دباؤ کا شکار ہوگی ہی مگر بابر کے اپنے کھیل پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل بابر اعظم کی ناکامی قومی ٹیم میں ایک بڑے بحران اور تنازع کو جنم دے سکتی ہے کیونکہ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوگا کہ قومی ٹیم کا اگلا کپتان کون ہوگا یا یہ کہ اگلا کپتان کون کون ہوسکتا ہے؟

جی ہاں، بابر اعظم کی زیرِ قیادت ٹیم کی ناکامیوں کے بعد قیادت کے لیے کئی دعویدار سامنے آسکتے ہیں اور شاید اس خطرے کو دیکھتے ہوئے شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ٹی20 ٹیم میں نہیں رکھا گیا حالانکہ مختصر فارمیٹ میں ان دونوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح پی سی بی آنے والے ممکنہ طوفان کا رخ بدل سکے گا؟ پلیئر پاور کے سامنے ہمیشہ ڈھیر ہونے والا کرکٹ بورڈ نوجوان کھلاڑیوں کی بغاوت کی صورت میں آخر کیا فیصلہ کرے گا کیونکہ اس وقت نوجوان ٹیم میں قیادت کے کئی دعویدار موجود ہیں جو مختلف سطح پر اس منصب پر فائز ہیں۔

پاکستان کرکٹ میں کھلاڑیوں کی جانب سے کپتان کے خلاف بغاوت کے قصے زبان زدِ عام ہیں اور وہ وقت کون بھول سکتا ہے جب بڑے بڑے ناموں کے خلاف کھلاڑیوں نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ان کی قیادت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

جاوید میانداد کو 2 مرتبہ بغاوت کا سامنا کرنا پڑا لیکن 1993ء میں ان کے خلاف دوسری مرتبہ ہونے والی بغاوت اور وسیم اکرم کو کپتان بنائے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ کو کافی نقصان پہنچا اور یہ وہ دور تھا جب ٹیم میں موجود تمام 11 کھلاڑی خود کو قیادت کے منصب کا اہل اور اس کی تگ و دو میں مصروف نظر آئے۔

اسی طرح 2009ء میں سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں نے یونس خان کے خلاف بغاوت کردی تھی جس کے بعد قیادت کی میوزیکل چیئر کا کھیل کافی عرصے تک جاری رہا تھا اور اس منفی عمل کا نتیجہ کچھ عرصے بعد 2010ء کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی صورت ہمارے سامنے آیا تھا جب خود ٹیم کے کپتان سلمان بٹ نے اس گھناؤنے جرم کو انجام دیا لیکن ان تمام تر چیزوں کے باوجود ہمارے بورڈ نے ماضی سے سبق نہ سیکھنے کی روایت کو پھر سے زندہ کیا اور ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔

موجودہ ٹیم پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں قیادت کے لیے کئی کھلاڑی موزوں نظر آتے ہیں جن میں سرِفہرست عماد وسیم ہیں جو پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی قیادت کرتے ہیں اور بابر اعظم ان کے زیرِ سایہ کھیلتے ہیں۔ پھر نیشنل ٹی20 میں انہیں کی قیادت میں ناردرن پنجاب نے ایونٹ بھی اپنے نام کیا ہے۔

اسی طرح فخر زمان، شاداب خان، حارث سہیل اور حال ہی میں ٹیم میں آنے والے محمد رضوان پی ایس ایل سمیت ڈومیسٹک کرکٹ میں مختلف سطح پر ٹیموں کی قیادت کرچکے ہیں جبکہ محمد عامر، وہاب ریاض اور امام الحق بھی فریق بن کر سامنے آسکتے ہیں لہٰذا یہاں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اگر بغاوت ہوئی تو بورڈ کیا حکمت عملی اپنائے گا؟ کیا پی سی بی نے اس بارے میں بھی کچھ سوچا ہے، یا اس کے نزدیک سب کچھ ٹھیک ہے؟

اس سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ 3 سال جس کپتان کو ٹی20 ورلڈ کپ کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا اور 2 سیریز کی شکست کے بعد میگا ایونٹ سے محض ایک سال پہلے ہٹادیا گیا، اگر اب نیا کپتان ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو پی سی بی کیا کرے گا؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ بابر کو تجرباتی بنیادوں پر قیادت کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاکہ ان کا کچھ امتحان لیا جاسکے اور ناکامی کی صورت میں سرفراز کو دوبارہ ون ڈے اور ٹی20 کپتان کے منصب پر بحال کرکے سبکی سے بچا جاسکے؟

دیکھتے ہیں کہ پی سی بی کا یہ جوا صحیح کام کرتا ہے یا 'لوٹ کے بدو گھر کو آئے' کے مصداق بورڈ قیادت کے لیے دوبارہ سرفراز سے رجوع کرتا ہے جو فی الحال وقار یونس اور مصباح الحق کے گٹھ جوڑ کی موجودگی میں ناممکن نظر آتا ہے۔