پیمرا نے اینکرز کو پروگرامز میں تجزیہ پیش کرنے سے روک دیا

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2019

ای میل

اینکرز کو اپنے اور دیگر چینلز کے ٹاک شور میں تجزیہ کار کی حیثیت سے شرکت نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی — فائل فوٹو: ڈان
اینکرز کو اپنے اور دیگر چینلز کے ٹاک شور میں تجزیہ کار کی حیثیت سے شرکت نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹیلی ویژن (ٹی وی) اینکرز کو ٹاک شوز کے درمیان اپنی ’رائے‘ کے اظہار سے روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کا کردار ثالث (ماڈریٹر) کی حد تک محدود کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیمرا کی جانب سے باقاعدہ شوز کی میزبانی کرنے والے اینکرز کو اپنے اور دیگر چینلز کے ٹاک شوز میں تجزیہ کار کی حیثیت سے شرکت نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

علاوہ ازیں میڈیا ہاؤسز کو ٹاک شوز میں انتہائی احتیاط کے ساتھ اور متعلقہ موضوع سے متعلق اُن کے علم اور مہارت کو مد نظر رکھ کر مہمان منتخب کرنے کی ہدایت کی گئی۔

تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو جاری کی گئی ہدایت میں کہا گیا کہ ’ٹاک شوز کے شرکا/مہمانوں کو احتیاط سے منتخب کیا جائے، ان کی ساکھ منصفانہ اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے طور پر ہو اور انہیں متعلقہ موضوع پر ضروری علم اور مہارت بھی حاصل ہو‘۔

پیمرا نے ہدایت میں کہا کہ ’پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق اینکرز کا کردار پروگرامز کو بامقصد، غیر جانبدارانہ انداز میں چلانا ہے اور کسی بھی معاملے پر ان کی ذاتی رائے، جانبداری یا فیصلہ شامل نہیں ہوتا‘۔

مزید پڑھیں: پیمرا نے تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی پر پابندی عائد کردی

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ’خصوصی ٹاک شوز کی میزبانی کرنے والے اینکرز اپنے یا دیگر چینلز کے ٹاک شوز میں کسی موضوع پر تجزیہ کار کے طور پر شریک نہ ہوں‘۔

پیمرا سے جاری ہدایت میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ نے 26 اکتوبر کو جاری کیے گئے حکم میں شہباز شریف اور ریاست کے معاملے پر قیاس آرائیوں پر مبنی مختلف ٹی وی ٹاک شوز کا نوٹس لیا تھا، جس میں اینکر پرسنز نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذموم عزائم کے تحت عدلیہ اور اس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’عدالت نے مذکورہ خلاف ورزیوں پر پیمرا کی جانب سے کارروائیوں کی رپورٹ طلب کی ہے‘۔

پیمرا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ نوٹس بھی لیا تھا کہ کچھ اینکر پرسنز اور صحافیوں نے 25 اکتوبر کچھ ٹی وی چینلز پر قیاس آرائیاں کی تھیں اور 26 اکتوبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو دی جانے والی ضمانت سے متعلق ایک 'معاہدے' کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’ایسی قیاس آرائیاں اعلیٰ عدالتوں کی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور ان کے فیصلے کو متنازع بنانے کی کوششیں تھیں‘۔

پیمرا نے کہا کہ اس حوالے سے میڈیا ہاؤسز کو نوٹسز بھی جاری کیے اور کچھ ٹی وی چینلز کی سروس بھی معطل کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیمرا کا نجی چینل کو وزیر اعظم کی نجی زندگی سے متعلق 'جھوٹی خبر' دینے پر معافی چلانےکا حکم

تاہم دوسری جانب میڈیا گروپس اور صحافیوں کا ماننا ہے کہ پیمرا کے مذکورہ اقدامات موجودہ حکومت کی جانب سے میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کا حصہ ہیں۔

پیمرا کے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ ’پیمرا بارہا نیوز چینلز کو زیرِ ٹرائل معاملات پر مباحثوں، رائے اور تجزیے نشر کرنے سے روکتا ہے اور عدلیہ کی توہین کرنے اور بدنام کرنے سے متعلق کیے گئے پروگرامز پر شوکاز نوٹسز بھی جاری کرتا رہا ہے‘۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’تمام نیوز چینلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اب سے عدالت میں زیرِ سماعت معاملات پر مباحثے، تجزیے اور قیاس آرائیاں نہ کریں، لائسنس یافتہ چینلز کسی کی بھی جانب سے اپنے پلیٹ فارمز سے قیاس آرائیوں اور غلط معلومات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں اور ملازمین کی جانب سے جانبدارانہ، غیر منصفانہ تجزیے، عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی پروپیگنڈے کا ذمہ دار چینل ہوگا‘۔

مزید پڑھیں: پیمرا نے نجی چینل کے پروگرام پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی

علاوہ ازیں پیمرا نے ٹی وی چینلز کو نشریاتی وقت میں تاخیر کے موثر طریقہ کے نفاذ کو یقینی بنانے اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اینڈ ایڈورٹائزمنٹ) کوڈ آف کنڈکٹ 2017 کی شق 17 کے تحت ایک غیرجانبدار اور آزاد مانیٹرنگ کمیٹی یا ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی۔

اس حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی یا ایڈیٹوریل بورڈ کا قیام سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے فیصلے میں جاری ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے، مانیٹرنگ کمیٹی کے ہر اجلاس کے لیے ٹی وی چینلز کم از کم ایک وکیل شامل کریں، جس کے پاس 5 سال سے زائد تجربہ ہو اور قانونی سمجھ بوجھ ہو تاکہ وہ چینل کو مستقبل میں نشر کیے جانے والے پروگرامز میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہدایت دے سکیں‘۔

پیمرا نے میڈیا ہاؤسز کو خبردار کیا کہ عدالت کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کی ترمیم پیمرا ایکٹ 2007 کی شق 30،29،27 اور 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔


یہ خبر 28 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی