خرابی صحت کے باعث نواز شریف کو کہیں اور منتقل کرنا ممکن نہیں

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2019

ای میل

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سروسز ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سروسز ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور/اسلام آباد: طبی ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی ہونے کی وجہ جان سکیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد ایک ہفتے سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں موجود ہیں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ انہیں علاج کے لیے ملک کے کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔

تاہم ان کی پارٹی کی سینئر قیادت نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو انجائنا کا اٹیک ہونے کی تصدیق

ڈاکٹروں کو ان کے علاج کے حوالے سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ وہ پلیٹلیٹس بڑھانے کے لیے دی جانے والی ادویات اور امراضِ قلب کی ادویات میں توازن رکھنا چاہتے ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق مریض کے پلیٹلیٹس امراضِ قلب کے لیے دی جانے والی ادویات کے باعث کم اور زیادہ ہورہے ہیں تاہم ’مرض کی تشخیص ہونا ابھی باقی ہے'۔

اس ضمن میں افواہیں گردش کررہی تھیں کہ ان کے اہلِ خانہ ان پر جاتی عمرہ میں موجود شریف میڈیکل سٹی میں منتقلی کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں حالانکہ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سروسز ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش ہیں۔

تاہم انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کرنے کے اقدام سے حکومتی کاندھوں سے ان کے علاج کی نازک ذمہ داری کا بوجھ ان کے اہلِ خانہ کو منتقل ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: 'حکومت کیسے بتا سکتی تھی نواز شریف کی صحت ٹھیک رہے گی یا نہیں؟'

سابق وزیراعظم کو ملک میں ہی کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک منتقل کرنے کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹروں کی اولین ترجیح یہ ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہوجائے، جیسے ہی ان کی صحت مستحکم ہوگی پھر ان کے بیرونِ ملک جانے کا سوال پیدا ہوگا'۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا نواز شریف کو بہتر علاج کے لیے لندن لے جایا جارہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب نواز شریف کی صورتحال بہتر ہو۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست میں ضمانت کی مدت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائی کوررٹ آج (بروز منگل) دوبارہ سماعت کرے گی۔