چھروں سے بینائی کھونے والے کشمیری بچوں کی تصاویر نے دنیا کو دنگ کردیا

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2019

ای میل

ہستالوں میں اس طرح کے متعدد کشمیری موجود ہیں جن کی آنکھیں متاثر ہوئیں—فائل فوٹو: احمر خان
ہستالوں میں اس طرح کے متعدد کشمیری موجود ہیں جن کی آنکھیں متاثر ہوئیں—فائل فوٹو: احمر خان

واشنگٹن: اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے 5ویں جماعت کے طالبعلم 9 سالہ آصف احمد شیخ کہتے ہیں کہ 'ٹی وی پر کارٹون دیکھنا، گلیوں میں دوسرے کے ساتھ کھیلنا، گھنٹوں تک کتابیں پڑھنا—بس اب یہی خواب دیکھتا ہوں میں'۔

بارامولا سے تعلق رکھنے والے دہم جماعت کے طالبعلم 17 سالہ الفت حمید کہتے ہیں کہ 'میں اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو سلائی اور ٹیلرنگ سکھاتا تھا لیکن میرے زخموں کی وجہ سے اب ایسا ممکن نہیں ہے، میں اپنی دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں لکھ تک نہیں سکا'۔

ایسی ہی کچھ کہانی بارامولا کے ایک اور 17 سالہ طالبعلم بلال احمد بھٹ کی بھی ہے جو کہتے ہیں کہ 'جب میں سری نگر کے ہسپتال میں گیا تو وہاں بہت لوگ تھے اور ڈاکٹرز نے مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ان کے پاس بستر موجود نہیں'۔

مزید پڑھیں: کیا پیلٹ گنز سے متاثر کشمیریوں کی بینائی لوٹ سکے گی؟

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ صرف ان 3 بچوں کی کہانی نہیں بلکہ یہ ان ہزاروں کشمیریوں میں شامل ہیں جنہیں مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ سے اندھا کیا گیا جبکہ درجنوں نے اپنی جانیں گنوادیں۔

ان کی تصاویر ان 109 صفحات پر مشتمل کتاب میں شامل ہیں جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بین الاقوام برادری کی توجہ ظالمانہ طرز عمل کی طرف مبذول کروانے کے لیے شائع کی گئی۔

بھارتی فورسز کے پیلٹ گنز کے استعمال سے بچے زیادہ متاثر ہوئے—فائل فوٹو: احمر خان
بھارتی فورسز کے پیلٹ گنز کے استعمال سے بچے زیادہ متاثر ہوئے—فائل فوٹو: احمر خان

یہ کتاب واشنگٹن میں پاکستانی سفارتحانے میں دکھائی جانے والی متعدد نمائش میں شامل تھی۔

پیلٹ گن کے متاثرین کی ان تصاویر نے دنیا کو دنگ کردیا اور عالمی سطح پر مذمت نے بھارت کو یہ دعویٰ کرنے پر مجبور کردیا کہ اس نے اپنی فوج کو ان بندوقوں کے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم کشمیریوں کا کہنا تھا کہ خاص طور پر 5 اگست کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کے بعد سے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ وادی میں حالیہ مہینوں میں درجنوں کشمیری پیلٹ گنز سے زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکی کانگریس کے 6 اراکین ڈیوڈ این سیسی لائن، ڈینا ٹی ٹس، کریسی ہولاہان، اینڈی لیون، جیمز پی مک گورن اور سوسان وائلڈ نے بھارتی سفارتکار ہارش وردھان شرنگلا کو لکھے گئے ایک خط میں اس معاملے کو بھی اٹھایا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں امن کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے قانون سازوں نے اعتراض کیا تھا کہ بھارتی کی جانب سے پیش کی جانے والی مقبوضہ وادی کی تصویر اس سے مخلتف تھی جو وہاں کے ایک شخص نے بیان کی۔

قانون سازوں نے لکھا کہ 'ہم نے ایسی رپورٹس سنی ہیں کہ جموں کشمیر کے اندر اتھارٹیز کی جانب سے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں استعمال کی جارہی ہیں جبکہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ربڑ کی گولیوں کے استعمال سے مظاہرین اندھے ہوئے ہیں'۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بچوں کی تعداد سمیت مظاہرین کے کتنے کیسز ہیں جو ربڑ کی گولیوں سے اندھے ہوئے ہیں؟ کیا مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی ربڑ کی گولیاں استعمال ہورہی؟ اور پرامن مظاہرین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے بھارتی حکومت کیا کر رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی پیلٹ گن کا نشانہ بننے والی کشمیری بچی کی آنکھ کا آپریشن

قانون سازوں نے بھارتی سفارتکار کو یاد دہانی کروائی کہ انہوں نے 16 اکتوبر کو ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے اراکین کو بتایا تھا کہ جموں و کشمیر کے حالات معمول پر ہیں۔

تاہم انہوں نے وادی کی مخصوص صورتحال سے متعلق معلومات مانگتے ہوئے قانون سازوں نے سفارتکار کو کہا کہ 'ہمارے مختلف حلقوں کی جانب سے صورتحال کی جو تصویر پیش کی جارہی وہ آپ کی شیئر کردہ معلومات سے مختلف ہے'۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ان کے حلقوں کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی معطلی، مقامی سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتار اور کرفیو کے نفاذ پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا۔