ایسا لگتا ہے کہ بغدادی بھی ٹرمپ کی خاص مدد نہیں کرسکا

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2019

ای میل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو آپے سے باہر نکلے جا رہے تھے۔ 26 اکتوبر بروز ہفتے کی شام کو ان سے رہا نہیں گیا اور ٹوئٹر پر اشارہ دے دیا کہ ’ابھی ابھی ایک غیرمعمولی واقعہ وقوع پذیر ہوا ہے!‘ انہوں نے شش و پنج میں ڈال دینے والے ٹوئیٹ کے ذریعے لوگوں کو حیران کرنے کی کوشش کی۔

لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اکثر امریکیوں نے ان کی بات پر زیادہ توجہ ہی نہیں دی ہوگی کیونکہ وہ اپنے کمانڈر ان چیف کی جانب سے ہر روز بلکہ ہر گھنٹے بعد کہی جانے والی بے تحاشا بے معنی و بے مقصد باتوں کے عادی سے بن چکے ہوں گے۔

تو جناب وہ ’بڑا واقعہ‘ دراصل شمالی شام کے شہر ادلب میں واقع ایک کمپاؤنڈ پر یونائیٹڈ اسٹیٹ ڈیلٹا فورس کی جانب سے کی جانے والی ریڈ تھی۔

جب صدر ٹرمپ اس واقعے کے حوالے سے باضابطہ خطاب کرنے آئے تب تک اتوار کی صبح کا سورج طلوع ہوچکا تھا۔ حسبِ توقع، انہوں نے بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی فضول باتوں پر مبنی خطاب کیا۔ صدر نے کہا کہ خود ساختہ ’دولت اسلامیہ‘ کے رہنما کو بزدلی کی موت نصیب ہوئی ہے اور وہ مرنے سے قبل ’رو رہا تھا اور سسکیاں لے رہا تھا۔‘

پھر وہاں موجود میڈیا نمائندگان کے ساتھ ہونے والی 46 منٹوں پر مشتمل گفتگو میں کئی دیگر معاملات پر بھی انہوں نے اپنا خیال پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ وہ پہلے اور واحد شخص تھے جس نے یہ کہا تھا کہ اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد ہے اور اسے مار دینا چاہیے۔ لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دیگر صدور پر خود کو برتر قرار دینا ویسے ہی ان کی ہر پریس کانفرنس کا لازمی جزو ہوا کرتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے کی جانی والی ریڈ اور آپریشن سے زیادہ اہمیت کی حامل حالیہ ریڈ ہے۔

ریڈ کے ابتدائی گھنٹوں بعد یوں محسوس ہوا جیسے جس آپریشن میں ابوبکر البغدادی کی موت ہوئی اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بچالیا ہے۔ ایک طرف مواخذے کی تحقیقات جاری ہے تو دوسری طرف یوکرین کے ساتھ خفیہ روابط سے متعلق شواہد منظر عام پر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید دباؤ کے شکار ٹرمپ کو کوئی معجزہ درکار تھا، ایسا معجزہ جو ان کے لیے آسانی پیدا کرسکے۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے انتخابی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے یوکرین کو مبیّنہ طور پر درخواست کی تھی۔

شام میں ہونے والی ریڈ جس میں ’سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد‘ کو مار دیا گیا ہے، دراصل ایک ایسا واقعہ نظر آتا ہے جو دوسری بار حکومت دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، (ٹھیک ویسے ہی جیسے اسامہ بن لادن کی ہلاکت اوباما کے لیے مددگار ثابت ہوئی تھی۔)

یوں لگا جیسے اسی مقصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی تشہیر کا اہتمام کیا گیا۔ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر ریڈ کے بعد کچھ تصاویر منظرِ عام آئیں تھیں جس میں صدر، اسٹیٹ سیکریٹری ہلیری کلنٹن اور دیگر کو جمگھٹے کی صورت میں ریڈ کی کارروائی براہِ راست دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اوباما اور ان کی ٹیم—تصویر وائٹ ہاؤس
اوباما اور ان کی ٹیم—تصویر وائٹ ہاؤس

بغدادی کے خلاف حالیہ ریڈ کے بعد بھی منظرِ عام پر آنے والی تصاویر میں ٹرمپ عالیشان کانفرنس میز پر اپنے مشیران اور وزرا کے ساتھ ممکنہ طور پر ریڈ کی براہِ راست کارروائی دیکھتے ہوئے نظر آئے۔

ٹرمپ اور ان کی ٹیم—تصویر وائٹ ہاؤس
ٹرمپ اور ان کی ٹیم—تصویر وائٹ ہاؤس

حالانکہ حالیہ واقعے میں سیاسی فتح دلانے کے تمام اجزا موجود تھے لیکن اس کے باوجود بغدادی کی ہلاکت کا واقعہ بے اثر سا محسوس ہوتا ہے، یہ واقعہ لوگوں میں مطلوبہ ترغیب پیدا ہی نہیں کرسکا۔

جس کا ثبوت اسی دن شام کو مل گیا۔ اتوار کی رات کو صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ نے بیس بال کی ورلڈ سیریز میں شرکت کی۔ ڈی سی کی مقامی ٹیم واشنگٹن نیشنلز کا مقابلہ ہیوسٹن ایسٹروز سے تھا۔ میدان میں تقریباً 50 ہزار افراد موجود تھے اور پھر تیسری اننگ کے اختتام پر جب ٹرمپ کو متعارف کروایا گیا تو پورے اسٹیڈیم نے ان پر آوازیں کسنا شروع کردیں۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ آواز کسنے کے بعد ’اس آدمی کو جیل میں بند کرو!‘ کے نعرے بھی بلند کیے گئے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ٹرمپ کی ریلیوں میں ان کے چاہنے والے ہلیری کلنٹن کے لیے اس طرح کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے پورا اسٹیڈیم تمام امریکیوں کی نمائندگی کر رہا ہے، چاہے انہوں نے بغدادی یا کسی دوسرے کو پکڑا ہو یا نہ پکڑا ہو اس سے قطع نظر لوگوں میں ٹرمپ کی ناپسندیدگی اور نفرت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

بغدادی کی ہلاکت پر امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کا ردِعمل بھی کافی دلچسپ نظر آیا ہے۔ مختلف تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اس واقعے کے بعد کافی محتاط نظر آئے۔ حالانکہ یہ وہ تجزیہ کار ہیں جنہوں نے دہشت گردی یا دہشت گردوں سے جڑے واقعات پر تجزیات کو ایک صنعتی ادارے میں تبدیل کردیا جسے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد یعنی گزشتہ 18 برسوں کے دوران زبردست فروغ ملا۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جس طرح یہ افراد ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے اور خود کو مبارکباد دینے میں مصروف تھے اس کے برعکس اس مرتبہ ان کا کہنا تھا کہ رہنما کے مرجانے سے دہشت گردی کے جال اور دہشت گرد تنظیمیں ختم نہیں ہوجایا کرتیں۔ ان تجزیہ کاروں میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ امریکیوں کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ انہوں نے بغدادی کو مارا ہے، کیونکہ بغدادی نے تو خودکش جیکٹ کے ذریعے خود کو مارا ہے۔

امریکا کے علاوہ باقی دنیا کے لیے تجزیہ کاروں کی یہ احتیاط اور ریڈ میں لوگوں کی عدم دلچسپی مثبت باتیں ہیں۔ اگرچہ بغدادی جیسے ظالم شخص کی موت بلاشبہ خوشی کا موقع ہے لیکن یہ سب نے دیکھا کہ بڑے بڑے دہشت گردوں کے قتل کے واقعات اب ملک کے اندر زیادہ سیاسی فوائد نہیں پہنچارہے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی اب بڑے بڑے اہداف کو نشانہ بنانے کا شوق ترک کرسکتی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق تجزیے کرنے والے افراد بار بار قیادت کو مفلوج کرنے کی عجیب منطق پر سوال اٹھاتے رہے لیکن بالآخر امریکا کو خود ہی اس بات کا احساس ہوا۔

یہ بات کہنے میں اب کوئی مشکل نہیں کہ بغدادی کی ہلاکت ٹرمپ کو ملک میں کم ہوتی مقبولیت کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی، مگر اس کے باوجود بھی سیاسی کامیابیوں کی خاطر ہر صدر دوسرے کو اس قسم کی ریڈز کے مقابلے میں پیچھے چھوڑنا چاہے گا۔

پاکستانی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دہشت گردی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہو بلکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے منظم انداز میں نمٹا اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ریڈ کے بعد امریکی اسپیشل فورسز نے کمپاؤنڈ تباہ کردیا اور بغدادی کی باقیات اپنے ساتھ لے گئے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے استعمال کیے جانے والے جسم کے حصوں کو چھوڑ کر ان کی باقیات کو بھی اسامہ بن لادن کی باقیات کی طرح سمندر برد کردیا گیا۔

آئندہ ماہ جیسے جیسے اگلے صدارتی انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آئے گی تو صدر ٹرمپ یقیناً یہ دعوٰی کریں گے کہ انہوں نے تن تنہا دولت اسلامیہ کو شکست دی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب شخص کی ہلاکت کے ابتدائی دنوں بعد نظر آنے والی صورتحال کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹھیک ایک سال بعد اپنے لیے نئے صدر کا انتخاب کرنے والے امریکی اس واقعے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ہیں۔


یہ مضمون 30 اکتوبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔