جھنگ: بچوں کی اموات میں سینئر ڈاکٹروں کی غفلت کا انکشاف

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2019
رپورٹ میں جاں بحق ہونے والے نومولود کے نام اور ان کی اموات کی تاریخ اور وقت کا بھی ذکر کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ میں جاں بحق ہونے والے نومولود کے نام اور ان کی اموات کی تاریخ اور وقت کا بھی ذکر کیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

جھنگ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) میں ایک ہفتے کے دوران 7 نومولود کی اموات میں سینئر ڈاکٹروں کی غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق جھنگ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کی جانب سے پیش کردہ ’خفیہ ادارتی رپورٹ‘ میں پرائمری اور سیکینڈری ہیلتھ سیکریٹری سے متعلقہ سینئر ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی گئی۔

مزیدپڑھیں: سرگودھا: ہسپتال میں 8 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت

رپورٹ میں جاں بحق ہونے والے نومولود کے نام اور ان کی اموات کی تاریخ اور وقت کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم رپورٹ میں ڈیوٹی پر ڈاکٹروں کے موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف سامنے آیا۔

سی ای او کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا کہ جب ڈاکٹروں کو بچوں کی تشویش ناک صورتحال سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے رابطہ کیا تو ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے نتیجے میں بچے نرسری میں دم توڑ گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’23 سے 30 اکتوبر کے دوران سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث متعدد نومولود دم توڑ گئے‘۔

رپورٹ میں ہسپتال کے شعبہ اطفال کی ناقص صورتحال پر بھی تبصرہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ماؤں میں آگاہی کا فقدان، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بڑی وجہ

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ شعبہ اطفال کی ڈاکٹر عیبہ یاسین نے گزشتہ 8 ماہ میں ایک مرتبہ بھی شعبے کا دورہ کیا اور نہ ہی سینئر ڈاکٹروں کو شام اور رات کی شفٹ میں تعینات کیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے متعدد مرتبہ درخواست کے باوجود ڈاکٹر عیبہ یاسین نے شعبہ اطفال میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی نہیں لگائی۔

رپورٹ کے مطابق عارضی اور دیگر میڈیکل افسر کو سینئر ڈاکٹروں کی موجودگی کے بغیر ہی مقرر کیا گیا۔

پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’سی ای او نے 23 اکتوبر کو ایم ایس کے ہمراہ شعبہ اطفال کا دورہ کیا تو ایک نوزائیدہ کی طبیعت خراب ہونے پر سینئر ڈاکٹر ناصر عباس کو بلایا گیا لیکن انہوں نے فون کا جواب نہیں دیا‘۔

رپورٹ کے مطابق سی ای او نے 25 اکتوبر کو دوبارہ شعبہ اطفال کا دورہ کیا اور 3 نومولود کی حالت تشویشناک پائی اور تب ماہر ڈاکٹر محمد ارشاد کو طلب کیا گیا لیکن انہوں نے بھی جواب نہیں دیا۔

مزیدپڑھیں: تیونس: 11 نومولود ہلاک ہونے پر وزیر صحت مستعفی

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 28 اکتوبر کو سی ای او کے تیسرے دورے کے دوران ڈاکٹر فیصل حنیف سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے بھی کالز کا جواب نہیں دیا۔

اس رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا کہ ’مذکورہ بالا صورتحال ڈی ایچ کیو جھنگ کے شعبہ اطفال کے ماہر ڈاکٹروں کی تشویشناک صورتحال / ناقص طرز عمل کو ظاہر کرتی ہے، جس کا مشاہدہ ہسپتال کے ایم ایس کے ہمراہ کیا گیا لہٰذا متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جائے‘۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (1) بند ہیں

azam Nov 02, 2019 01:44pm
Is there any humanity in the Doctors named here? Is there any visible Government system to punish the culprits? Looks like we are living in jungle . . .