'یہ استعفیٰ لینے آئے ہیں یا جھولے؟'

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2019

ای میل

فوٹو/ اسکرین شاٹ
فوٹو/ اسکرین شاٹ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کا آغاز 27 اکتوبر کو کراچی سے کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے آغاز کے بعد سے اب تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر 'آزادی مارچ' کا ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ میں رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کردیا

اسی ہیش ٹیگ کو استعمال کرکے ٹوئٹر پر کئی ایسی مزاحیہ ویڈیوز سامنے آرہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا اسلام آباد میں مارچ کے دوران پارک میں جھولے لے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز پر صارفین کے دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے، کسی نے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیا، کسی نے مزاحیہ کہا تو کسی نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے ٹوئٹر پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'یہ استعفیٰ لینے آئے ہیں یا جھولا؟'

اسی طرح ایک ویڈیو ایسی بھی سامنے آئی جس میں آزادی مارچ میں جانے والا ایک کارکن موٹر سائیکل پر کرتب دکھاتے نظر آیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور ایسی ویڈیو سامنے آئی جس میں ٹرک میں موجود آزادی مارچ کے شرکا کو ان کا ساتھی ڈانس کرکے محظوظ کرتے نظر آیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیوز میں ایک اور مزاحیہ ویڈیو میں شرکا اکٹھے جھولا جھولتے نظر آئے۔

اس ویڈیو میں آزادی مارچ میں موجود کارکن بچوں کی سلائڈ پر چڑھ کر نعرے لگاتے ہوئے دیکھے گئے۔

یاد رہے کہ آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا تھا جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کراچی سے آزادی مارچ براستہ سکھر، پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا تھا۔