مسیحی شادی اور طلاق کا بل وزارتوں کے اختلاف کے باعث التوا کا شکار

اپ ڈیٹ نومبر 05 2019

ای میل

اس سلسلے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکا بخاری نے 3 بنیادی فریقین سے کئی مذاکرات کیے
— فوٹو: قلب علی
اس سلسلے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکا بخاری نے 3 بنیادی فریقین سے کئی مذاکرات کیے — فوٹو: قلب علی

اسلام آباد: کرسچن میرج اینڈ ڈائیورس بل 2019 کا مسودہ پادریوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور وزارت برائے انسانی حقوق اور قانون و انصاف کے درمیان اختلاف کے باعث التوا کا شکار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کئی برسوں سے کرسچن پرسنل لاز میں تجدید کی کوششوں کے بعد کرسچن میرج اینڈ ڈائیورس بل 2019 کا مسودہ پاکستان میں نظریاتی اور دیگر اختلافات باعث التوا کا شکار ہے۔

140 برس قدیم کرسچن پرسنل لاز میں تجدید سے متعلق بل وفاقی کابینہ کی جانب سے اگست میں منظور کیا گیا تھا۔

اُس وقت وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وزارت کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو جلد ہی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

تاہم کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 اور کرسچن میرج ایکٹ 1870 کی تجدید سے متعلق بل التوا کا شکار ہے اور وزارت انسانی حقوق اور وزارت قانون دونوں کا دعویٰ ہے کہ بل دوسری وزارت کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادی اور جبری مذہب تبدیلی کے خلاف بل پیش

وزارت انسانی حقوق نے پہلے جانچ پڑتال کے لیے مذکورہ بل وزارت قانون کو بھیجا تھا۔

اس سلسلے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکا بخاری نے 3 بنیادی فریقین سے کئی مذاکرات کیے، جن میں کمیونٹی ورلڈ سروس-نیشنل لابینگ ڈیلی گیشن (سی ڈبلیو ایس/این ایل ڈی) کا گروپ، سینٹر فار سوشل جسٹس پیٹر جیکب کی قیادت میں دوسرا گروپ اور تیسرا فادر جیمز چنان کی قیادت میں کیتھولک گروپ شامل ہے۔

خیال رہے کہ سی ڈبلیو ایس/این ایل ڈی اور سینٹر فار سوشل جسٹس کے گروہ مذکورہ قانون کے حامی جبکہ کیتھولک گروپ اس کا سخت مخالف ہے اور بل پیش کرنے کی بنیادی وجہ میں سے ایک یہ بھی ہے۔

بعد ازاں مشاورت مکمل ہونے پر رواں برس ستمبر میں بل وزارت انسانی حقوق کو واپس بھیجا گیا تھا۔

وزارت قانون کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ 'بل کےمسودے سے متعلق سنگین خدشات موجود ہیں اور امید ہے کہ وزارت برائے انسانی حقوق تمام فریقین کے تحفظات کو سمجھے گی'۔

جس کے بعد رواں برس اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں وزارت برائے انسانی حقوق نے تینوں گروہوں سے ملاقاتوں کے بعد بل وزارت قانون کو دوبارہ ارسال کیا تھا لیکن وزارت قانون کا کہنا ہے کہ ان کے تمام خدشات کو نہیں شامل کیا گیا۔

دونوں وزارتوں کا بنیادی مسئلہ کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے پادری کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے باعث ہے۔

فادر جیمز چنان نے حکومت کو اپنے تحفظات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پادری مسودے میں موجود کئی دفعات کو تسلیم نہیں کرتے جس میں طلاق کا حق بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم پاکستان میں مسیحی افراد کے سب سے بڑے گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں پوپ کے زیر قیادت ایک ارب 20کروڑ کیتھولک موجود ہیں'۔

فادر جیمز چنان نے کہا کہ' کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 کی طرح یہ قانون بائبل کی تعلیمات اور مسیحی قوانین کوڈ آف کینن کے خلاف ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی، شوہر کو قید کی سزا

پیٹر جیکب کی قیادت میں دوسرے گروہ میں بشپ الیگزینڈر جون بھی شامل ہیں، وہ ترقی پسند قوانین پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی تجاویز شامل کرنے پر وزارت قانون اور انسانی حقوق کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ' جدید دور میں لوگوں سے متعلق قوانین میں اسلامی نظریاتی کونسل یا چرچ کسی کا بھی کردار نہیں ہونا چاہیے'۔

علاوہ ازیں تیسرے گروہ سی ڈبلیو ایس/ این ایل ڈی نے 4 سال سے زائد عرصے بعد کرسچن میرج اور ڈائیورس کے قوانین میں تجدید لانے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ' شہریوں کے مفادات سے متعلق قانون سازی چرچ نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے'۔

سی ڈبلیو ایس کے آصف عدیل نے ڈان کو بتایا کہ ' کچھ افراد کی جانب سے بل کے حتمی مراحل میں تاخیر کی ترکیبیں کی جارہی ہیں'۔

آصف عدیل نے مزید کہا کہ 'پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل اور ان کے بعد سابق وزیر انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ کی جانب سے مشاورت کے مختلف دور ہوئے تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ' ایسے لوگوں کو اس وقت پر آنا چاہیے تھا'۔

آصف عدیل نے بتایا کہ اکتوبر 2017 میں ممتاز احمد تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ کرسچن میرج اینڈ ڈائیورس بل کو حتمی منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ایسے لوگوں نے اس بل میں 2 برس کی تاخیر کی اور اب کچھ نئے گروپ اس میں مزید تاخیر چاہتے ہیں، کئی مسائل اس وقت حل ہوسکتے ہیں جب بل قائمہ کمیٹیوں کے پاس ہوتا ہے'۔