آزادی مارچ: چوہدری برادران کی 36 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمٰن سے تیسری ملاقات

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

ملاقات مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہوئی — فوٹو: ڈان نیوز
ملاقات مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہوئی — فوٹو: ڈان نیوز

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے آزادی مارچ کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ میں ملاقات کی۔

دونوں رہنماؤں میں آزادی مارچ کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے آزادی مارچ کے آغاز کے بعد سے مولانا فضل الرحمٰن سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں معاونت کے لیے ملاقات کی ہے۔

پرویز الہیٰ کی میڈیا سے گفتگو

مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد چوہدری پرویز الہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مثبت پیش رفت ہورہی ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، تھوڑا صبر اور محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'محنت اس لیے ہو رہی ہے تاکہ مثبت طریقے سے معاملے منطقی انجام کو پہنچیں، ہمارے مقصد کو کامیابی ملے گی لیکن وقت لگے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا مقصد ایک ہے تو انشاءاللہ کامیابی ضرور ملے گی'۔

اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے پرویز الہی سے وزیراعظم کے استعفے پر ڈیڈ لاک کے حوالے سے سوال کیا گیا تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

پرویز الہٰی نے جمعے تک دھرنا ختم ہونے کے سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔

حکومت اور جمعیت علما اسلام (ف) کے درمیان مذاکرات

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت مخالف آزادی مارچ کے حوالے سے مذاکرت کے لیے قائم کی گئی رہبر کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا تھا۔

کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقین کا کہنا تھا کہ درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس سے ایک روز قبل بھی دونوں کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پہلے قدم میں کامیاب ہوئے ہیں اور مطالبات کا تبادلہ کیا گیا جو قیادت کے سامنے رکھے جائیں گے اور دوبارہ ملاقات ہوگی۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا تھا کہ ‘پرویز خٹک کی قیادت میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آج تفصیلی بات ہوئی، ہم نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے جس کو انہوں نے سنا جبکہ اس کے علاوہ بھی گفتگو ہوئی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کل پھر ملاقات ہوگی، یہ ہمارے مطالبات اپنے بڑوں کے سامنے رکھیں گے اور دوبارہ آئیں گے تو پھر تفصیلی بات ہوگی’۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا تھا کہ ‘سب سے پہلے رہبر کمیٹی اور ساری اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جو معاہدہ ہوا تھا اس کی پاسداری کی اور ہمیں خوشی ہے کہ سیاسی لوگ آپس میں فیصلے کرتے ہیں تو اس کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اللہ کا شکر ہے کہ پہلے قدم میں ہم کامیاب ہوئے ہیں، آج ملاقات میں ان کے مطالبات اور جو مسائل تھے وہ ہم نے سنے اور اپنے مطالبات ان کے سامنے پیش کیے’۔

آزادی مارچ

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔

اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد 'وزیراعظم' سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان 'جعلی انتخابات' کے ذریعے اقتدار میں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اس لانگ مارچ کے لیے پہلے 27 اکتوبر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اسے 31 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا جاتا ہے، لہٰذا اس روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

اس آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔

مزید پڑھیں: 'ہمیں اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہوجائے گی'

ابتدائی طور پر کمیٹی کے رکن اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔

تاہم 20 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی کے وفد کو صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ اب اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

علاوہ ازیں 21 اکتوبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے، جس کے بعد حکومت نے جے یو آئی (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

آزادی مارچ کی اسلام آباد آمد

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔

تاہم آزادی مارچ کے سلسلے میں ہونے والے جلسے کا باضابطہ آغاز یکم نومبر سے ہوا تھا، جس میں مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 دن کی مہلت دی تھی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب میں کہا تھا کہ 'عمران خان کا دماغ خالی ہے، بھیجہ نہیں ہے اور یہ جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں، جادو ٹونے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہورہی ہیں'۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ 'مجھے خطرہ یہ ہے کہ یہ جو جادو ٹونے سے تبدیلی لانا چاہتے تھے وہ پاکستان کی سب سے بڑی بربادی بن گئی ہے، میں نے 72 برس میں پاکستان کی اتنی بدتر صورتحال نہیں دیکھی'۔

علاوہ ازیں پاکستان پپپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن اور متحد اپوزیشن کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہر جمہوری قدم میں ہم ساتھ ہوں گے اور ہم اس کٹھ پتلی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجیں گے'۔

آزادی مارچ کا پس منظر

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔

ابتدائی طور پر اس احتجاج، جسے 'آزادی مارچ' کا نام دیا گیا تھا، اس کی تاریخ 27 اکتوبر رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ احتجاج کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔

18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا تاہم 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

حکومت نے اسی روز اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

پی پی پی کی جانب سے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے اور حکومتی کمیٹی سے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

بعدازاں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔