نیب کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جائیداد نیلام کرنے کی اجازت مل گئی

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

اسحٰق ڈار سابق وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور اب ملک سے باہر ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
اسحٰق ڈار سابق وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور اب ملک سے باہر ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار کی جائیداد کی نیلامی روکنے کی درخواست کو مسترد کردیا، جس کے ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جائیداد کی نیلامی کی اجازت مل گئی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق نے سابق وزیر خزانہ کی جائیداد کی قرقی و نیلامی کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے لاہور کی یہ جائیداد انہیں تحفے میں دی تھی۔

مزید پڑھیں: اسحٰق ڈار کے ضبط شدہ 50 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع

تاہم تبسم اسحٰق عدالت میں اس جائیداد کے تحفے میں ملنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکیں، جس کے بعد عدالت نے آج محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔

ساتھ ہی عدالت نے گھر پر چھاپے کے دوران بنائی گئی نیب کی ویڈیو کی فراہمی سے متعلق بھی درخواست کو مسترد کیا جبکہ تبسم اسحٰق ڈار کی اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانے کی درخواست پر فیصلہ موخر کردیا، جسے 13 نومبر کو سنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیب نے سابق وزیر خزانہ کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا جس میں انہیں مفرور قرار دیا گیا تھا اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات دیے گئے تھے جس پر گزشتہ برس اکتوبر میں تبسم اسحٰق ڈار نے جائیداد کی بحالی کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر خزانہ کی جائیداد پنجاب حکومت کے حوالے کر کے اس کی نیلامی کا حکم دیا تھا۔

جس پر تبسم اسحٰق ڈار نے جائیداد کی ضبطی کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ گلبرگ میں موجود یہ گھر ان کے شوہر نے 14 فروری 1989 کو زبانی طور پر ان کے حق مہر کی ادائیگی میں بطور تحفہ دیا تھا جس کے بعد سے وہ یہاں رہائش پذیر تھیں، نیب نے غلط طور پر اسے اسحٰق ڈار کی جائیداد کا حصہ دکھایا۔

انہوں نے احتساب عدالت سے استدعا کی کہ مذکورہ جائیداد کی نیلامی روک دی جائے، تاہم نیب کا کہنا تھا کہ یہ گھر ریونیو ریکارڈ کے مطابق اسحٰق ڈار کے نام پر رجسٹر ہے اور اب تک ان کی اہلیہ کے نام منتقل نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: اسحٰق ڈار کو کوئی ریڈ نوٹس نہیں دیا گیا، انٹرپول

یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا اور ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرلی گئی تھی۔

نیب کی جانب سے ضبط کیے گئے اثاثوں میں لاہور گلبرگ 3 میں واقع گھر، لاہور کی ہی الفلاح ہاؤسنگ سوسائٹی میں 3 پلاٹس، اسلام آباد میں 6 ایکڑ زمین، پارلیمنٹ انکلیو میں 2 کنال کا پلاٹ، سینیٹ کووآپریٹو سوسائٹی میں ایک پلاٹ، اسلام آباد میں 2 کنال اور 9 مرلہ کے 2 پلاٹس جبکہ 6 گاٖڑیاں بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ اسحٰق ڈار 2017 سے بیرون ملک میں مقیم ہیں اور احتساب عدالت انہیں مفرور قرار دے چکی ہے، وہ علاج معالجے کے سلسلے میں لندن گئے تھے، جس کے بعد سے وہ اب تک وہیں مقیم ہیں۔