بھارت نے والد کی ’معلومات چھپانے‘ پر سلمان تاثیر کے بیٹے کی شہریت منسوخ کردی

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2019

ای میل

آتش تاثیر کی شہریت منسوخی کی وجہ ان کے نریندر مودی کے خلاف لکھے گئے ایک تنقیدی مضمون کو قرار دیا جارہا ہے—تصویر: فیس بک
آتش تاثیر کی شہریت منسوخی کی وجہ ان کے نریندر مودی کے خلاف لکھے گئے ایک تنقیدی مضمون کو قرار دیا جارہا ہے—تصویر: فیس بک

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے اور معروف غیر ملکی صحافی اور لکھاری آتش علی تاثیر کی شہریت ختم کردی۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آتش تاثیر کی اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (بھارت کے غیر ملکی شہری) کی حیثیت اس لیے ختم کی گئی کہ انہوں نے اپنی دستاویز میں یہ بات ظاہر نہیں کیا کہ ان کے والد پاکستانی شہری تھے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آتش تاثیر کو جواب یا اعتراض جمع کروانے کا موقع دیا گیا تھا تاہم انہوں نے نوٹس پر جواب نہیں جمع کروایا۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق 13 اگست کو جاری کیے گئے ایک نوٹس میں وزارت داخلہ نے کہا کہ آتش نے اپنے والد کی تفصیلات نہیں بتائیں جو پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر تھے اور صرف اپنی والدہ کی معلومات فراہم کیں جو بھارتی صحافی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعدازاں 3 ستمبر کو انہیں ایک اور نوٹس جاری کیا گیا جس پر آتش تاثیر نے 6 ستمبر کو اپنا جواب جمع کروایا جس میں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کے والدین سلمان تاثیر اور تلوین سنگھ کی شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے ان کی والدہ ان کی واحد سرپرست ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹائم میگیزن کے لیے لکھ ہوا آتش تاثیر کامضمون جس پر بی جے پی سیخ پا ہوگئی

نیویارک کے بھارتی قونصل خانے کو جمع کروائے گئے جواب میں آتش تاثیر نے بتایا کہ ان کے والدین کے درمیان تعلقات اس وقت استوار ہوئے جب وہ دونوں لندن میں رہائش پذیر تھے اور سلمان تاثیر برطانوی شہری تھے جن کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ بھی موجود تھا۔

آتش تاثیر کا جواب

اس ضمن میں آتش تاثیر نے ٹائم میگزین میں تحریر کیے گئے اپنے جواب میں بھارتی انتخابات کے وقت نریندر مودی کے خلاف لکھے گئے ایک مضمون میں اپنی شہریت منسوخی کی وجہ کی جانب اشارہ دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنی تحریر میں انہوں نے بتایا کہ میرے والد سلمان تاثیر برٹش انڈیا میں پیدا ہوئے جن کی والدہ برطانوی تھیں جبکہ ان کے والد پاکستان بننے کے بعد پاکستانی بنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ میں پیدا ہوا اور برطانوی شہری ہوں لیکن 2 سال کی عمر سے میں اپنی بھارتی والدہ کے ساتھ انڈیا میں رہائش پذیر تھا جو معروف صحافی ہیں۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا 138 افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر تحفظات کا اظہار

انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے اکیلے میری پرورش کی اور وہی میری واحد سرپرست تھیں اور میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف انہی کو والدین کی شکل میں پایا۔

آتش تاثیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں اور ان کے والد سلمان تاثیر کے ساتھ ان کے تعلقات بھی پیچیدہ تھے اور بغیر شادی کے پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا اپنے والد سے 21 سال کی عمر تک رابطہ نہیں ہوا تھا۔

بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آتش تاثیر بھارتی حکومت کی جانب سے شہریت منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نریندر مودی کے خلاف مضمون کا تنازع

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی انتخابات کے وقت آتش تاثیر نے امریکی جریدے ٹائم میگزین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں بھارتی وزیراعظم کو ’انڈیاز ڈیوائڈر ان چیف‘ کہا تھا جس کا عنوان تھا کہ ’کیا بھارت نریندر مودی حکومت کے مزید 5 سال برداشت کرسکتا ہے‘۔

مذکورہ مضمون کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی کردار کشی کی کوشش قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ لکھاری نے پاکستانی ایجنڈے کی تکمیل کی ہے۔

جس کے جواب میں نریندر مودی نے خود ٹائم میگزین کو ایک خط کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹائم میگزین غیر ملکی ہے جبکہ لکھای کہہ چکے ہیں کہ ان کا تعلق پاکستان کے سیاسی گھرانے سے ہے جو ان کی ساکھ کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے‘۔

بھارتی حکومت کے مذکورہ اقدام پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ (سی پی جی) جرنلسٹس نے بھی تنقید کی۔

اپنے ردِ عمل میں سی پی جی کا کہنا تھا کہ’ایک تنقیدی آرٹیکل کے بعد صحافی کی شہری حیثیت کو نشانہ بنانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کو تنقید اور آزادی صحافت برداشت نہیں‘۔

تاہم سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں بھارتی وزارت داخلہ کی ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ آتش تاثیر کی شہریت ان کے ٹائم میگزین کے لیے لکھے گئے مضمون کے باعث منسوخ کی گئی۔