سابق آئی ایس آئی سربراہ کا نام مزید 2 تحقیقات کے باعث ای سی ایل میں موجود

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی—فائل فوٹو: الجزیرہ
اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی—فائل فوٹو: الجزیرہ

اسلام آباد: وزارت دفاع نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بتایا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف مزید 2 انکوائریز شروع کیے جانے کے باعث ان کا نام سفری پابندی کی فہرست میں درج ہے۔

واضح رہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں اس وقت درج کیا گیا جب انہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسز ونگ (را) کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک کتاب تحریر کی۔

رواں برس فروری میں فوجی ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی فوج کے وقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسد درانی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے درخواست دائر کردی

انہوں نے کہا تھا کہ امرجیت سنگھ دولت کے ساتھ مل کر متنازع کتاب تحریر کرنے پر اسد درانی کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے جبکہ ایک فوجی عدالت نے ان کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات بھی واپس لے لی ہیں۔

خیال رہے کہ مئی کے مہینے میں جنرل (ر) اسد درانی نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ان کے خلاف کیس نمٹایا جاچکا ہے لہٰذا اب ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں درج رکھنے کی ضرورت نہیں۔

اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وزارت داخلہ کے ذریعے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

مزید پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق جی ایچ کیو کی رپورٹ طلب

تاہم گزشتہ ماہ جنرل (ر) اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی، جس پر 15 اکتوبر کو عدالت نے وزارت داخلہ کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں جمعے کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ جنرل (ر) اسد درانی کا معاملہ کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا جنہوں نے ان کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس ضمن میں وزارت دفاع کے عہدیدار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ حکام نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف 2 علیحدہ انکوائریز کے احکامات دیے تھے جو اس وقت جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت دفاع ان انکوائریز کے سلسلے میں جنرل (ر) اسد درانی کو طلب کرے گی اس لیے ان کا ملک میں موجود رہنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) نے جنرل (ر) اسدر درانی کا نام ای سی ایل میں درج کرنے کے لیے گزشتہ برس وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔

واضح رہے کہ جنرل (ر) اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے، ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز ہونے کے بعد مئی میں انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) بھی طلب کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان

انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کررہے ہیں جس میں ان سے تحریر کردہ کتاب میں لکھے گئے مواد کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں جنرل (ر) اسد درانی کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے موکل کو جی ایچ کیو میں ’چائے کے لیے‘ بلایا گیا تھا۔

انہوں نے عدالت میں کہا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں لیکن ای سی ایل میں نام شامل ہونے کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتے۔


یہ خبر 9 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔