آج نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا، گورنر پنجاب

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2019

ای میل

چوہدری سرور کے مطابق نواز شریف کی صحت کے بارے میں سب فکرمند ہیں — فوٹو:ڈان نیوز
چوہدری سرور کے مطابق نواز شریف کی صحت کے بارے میں سب فکرمند ہیں — فوٹو:ڈان نیوز

گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ آج سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکال دیا جائے گا جس کے بعد وہ علاج کے لیے جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں سب فکر مند ہیں۔

چوہدری سرور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ہم انہیں ملک سے باہر بھجواسکیں، اتنا بہتر ہے، ہم ان کی صحت پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر تمام اداروں سے رابطہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے علاج کے لیے ہم نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، ہم نواز شریف کی صحت کو سیاست میں نہیں لانا چاہتے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی بیرون ملک روانگی سرکاری میڈیکل بورڈ کی سفارش سے مشروط

قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ حکومت ازخود کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالتی یا نکالتی نہیں، حکومت کسی پرائیوٹ میڈیکل بورڈ کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ نہیں کرسکتی، اس حوالے سے سرکاری میڈیکل بورڈ کی رائے لی جائے گی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کے ملزم ہیں، ہمیں نیب کی طرف سے درخواست موصول ہوئی جس میں شریف میڈیکل سٹی کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات منسلک ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا ای سی ایل سے خارج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

تاہم نیب اور وزارت داخلہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔

'پاکستان نے ثابت کیا ہم اقلیتوں کو تحفظ دیتے ہیں'

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ قائداعظم کے ویژن کے مطابق ہم نے اقلیتوں کو تحفظ دیا، پاکستان نے ثابت کیا کہ ہم اقلیتوں کو تحفظ دیتے ہیں۔

چوہدری سرور نے کہا کہ ہم پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کرتار پور کی طرح دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہیں کھول رہے ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت کی سپریم کورٹ نے ہندو انتہاپسندوں سے ڈرتے ہوئے بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک میں لبرزم کو پروموٹ کریں گے جبکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی میں تاخیر

چوہدری سرور نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے، ہماری تمام تر توجہ اس وقت کشمیر پر مرکوز ہے۔

'اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا چاہیے'

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے کسی سیاسی جماعت نے کوئی فائدہ یا نقصان اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا چاہیے، دنیا بھر میں جہاں بھی اس وقت شورش ہے وہاں سب سے پہلے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔