نوازشریف کی بیرون ملک روانگی سرکاری میڈیکل بورڈ کی سفارش سے مشروط

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت خود سے خواہشات پر نہیں چلتی—فوٹو: ڈان نیوز
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت خود سے خواہشات پر نہیں چلتی—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت ازخود کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالتی یا نکالتی نہیں ہے اور حکومت کسی پرائیوٹ میڈیکل بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں فیصلہ نہیں کرسکتی، اس کے لیے سرکاری میڈیکل بورڈ کی رائے لی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کے ملزم ہیں، ہمیں نیب کی جانب سے درخواست موصول ہوئی جس میں شریف میڈیکل سٹی کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات منسلک ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک جانے پر رضامند

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ کیے جانے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے قائد علاج کے لیے گزشتہ روز (10 نومبر) کو لندن روانہ نہیں ہوسکے تھے۔

فردوس عاشق نے کہا کہ دو چھٹیوں کے بعد سرکاری میڈیکل بورڈ سے رائے کے بعد وزارت قانون اپنے طریقہ کار کے مطابق درخواست کا جائزہ لے گا اور پھر کابینہ فیصلہ کرے گی کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنا ہے یا نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق صدر کی صحت کا مقدمہ میڈیا پر لڑنے کے بجائے ان کی پارٹی کو قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ آصف علی زرداری کو درپیش طبی مسائل اور اس کے سدباب کے لیے بیانات بازی کے بجائے درخواست دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام اس وقت شروع ہوگا جب درخواست حکومت کے پاس آئے گی، حکومت خود سے خواہشات پر نہیں چلتی۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے احکامات کے بعد 6 نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے لیے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے کی سہولیات قائم کی گئی تھیں۔

قبل ازیں انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں نیب لاہور کے دفتر سے تشویش ناک حالت میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی پلیٹلیٹس کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔

ای سی ایل سے متعلق معاملے پر ڈاکٹر پریشان ہیں، مریم اورنگزیب

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت سے متعلق کہا کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے غیر یقینی عمل سے ڈاکٹروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں کہ پلیٹلیٹس بڑھانے کے لیے مزید اسٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز دیں یا نہ دیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف کے سفر کو آسان بنانے کے لیے پلیٹلیٹس کی مقدار میں توازن ضروری ہے تاہم اسٹیرائڈز کی بار بار ہائی ڈوز سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ وقت ضائع ہوتا رہا تو نواز شریف کی صحت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سروسز ہسپتال سے جاتی امرا

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے احکامات کے بعد 6 نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے لیے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے کی سہولیات قائم کی گئی تھیں۔

قبل ازیں انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں نیب لاہور کے دفتر سے تشویش ناک حالت میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی پلیٹلیٹس کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں سابق وزیر اعظم کے علاج کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا اور کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے مرض کی تشخیص کی تھی تاہم نواز شریف کے پلیٹلیٹس کا مسئلہ حل نہ ہوسکا اور ان کی صحت مستقل خطرے سے دوچار رہی۔

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کر دی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی نیب حراست سے رہائی سے متعلق تھی، جس پر 25 اکتوبر کو سماعت ہوئی تھی اور اس کیس میں عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کردی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے علاج کے حوالے سے واضح کیا کہ اگر ضمانت میں توسیع کی ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت سے دوبارہ درخواست کی جاسکتی ہے اور حکومت اس پر فیصلہ کر سکتی تاہم نواز شریف عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔