مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

11 نومبر 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔

سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔

اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاسز سیال کو زہریلے مواد کو نکالنے کے بعد دوبارہ تازہ بنا کر استعمال کرنا ممکن ہوسکے گا۔

سنگاپور جنرل ہاسپٹل کی جانب سے اس کی پہلی انسانی آزمائش 15 مریضوں پر کی گئی جن میں اس ڈیوائس سے سو سے زائد بار ڈائلاسز کیا گیا، علاج کے ایک ماہ بعد بھی ان میں کوئی سنگین مضر اثرات دیکھنے میں نہیں آئے جبکہ یہ طریقہ کار خون سے زہریلے مواد کو خارج کرنے کے لیے بھی موثر ثابت ہوا۔

محقق مارجوری فو وائی ین کے مطابق اس ڈیوائس کے لیے جس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے وہ گزشتہ 40 سال استعمال ہونے والے ڈائیلاسز کے عمل کو انقلابی بناسکتی ہے کیونکہ اس سے مریضوں کے علاج میں سہولت اور لچک بھی ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے ڈائیلاسز سیال کے دوبارہ استعمال سے وسائل بچانے میں مدد ملے گی جبکہ طبی فضلہ بھی کم کیا جاسکے گا۔

اس تحقیق کے نتائج واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

خیال رہے کہ گردے جسم کے اندر خون کے اندر موجود زہریلے مواد کے اخراج، سیال کے صحت مند توازن اور ہارمونز بنا کر بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گردے اپنے افعال سرانجام نہ دے سکیں تو پھیپھڑوں میں خون اور پانی میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا نتجہ جان لیوا نکلتا ہے، ابھی اس کا موثر علاج ٹرانسپلانٹ سمجھا جاتا ہے، مگر مریضوں کے مقابلے میں ڈونرز کی تعداد کم ہوتی ہے۔

اس سے ہٹ کر ڈائیلاسز ہی واحد آپشن ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔