پی ایس ایل2020: پلاٹینئم کیٹیگری میں شامل غیرملکی کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

پاکستان سپر لیگ کا اگلا ایڈیشن آئندہ سال فروری میں منعقد ہو گا— فائل فوٹو: بشکریہ پی سی بی
پاکستان سپر لیگ کا اگلا ایڈیشن آئندہ سال فروری میں منعقد ہو گا— فائل فوٹو: بشکریہ پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کے لیے پلاٹینئم کیٹیگری میں شامل غیرملکی کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے اور ماضی کے برعکس سب سے بڑی تعداد میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے لیگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

پاکستان سپر لیگ 2020 کے ایڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے اگلے ایڈیشن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی کنگز کا ڈین جونز کو ہیڈ کوچ بنانے کا اعلان

ڈیل اسٹین کے علاوہ ورلڈکپ کی فاتح انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے معین علی، عادل رشید اور جیسن رائے سمیت 28 غیر ملکی کھلاڑی تاحال پلاٹینم کٹیگری کا حصہ بن چکے ہیں اور پی سی بی مذکورہ کیٹیگری میں شامل تمام کھلاڑیوں کی فہرست 21 نومبر کو رجسٹریشن ونڈو بند ہونے کے بعد جاری کرے گا۔

کرکٹ کے میدان میں بابر اعظم اور ڈیل اسٹین کے درمیان جنگ اس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں خبروں کی زینت بن چکی ہے اور اب پاکستان سپر لیگ میں بھی اس جنگ کے دوبارہ چھڑنے کا امکان ہے۔

آئندہ ایڈیشن میں کراچی کنگز کی جانب سے بابر اعظم کو برقرار رکھنے کے امکانات موجود ہیں تاہم ڈیل اسٹین کی دیگر پانچ میں سے کسی ایک فرنچائز میں شمولیت ایک بار پھر کرکٹ کے مداحوں کو ٹی ٹونٹی کی عالمی رینکنگ میں سب سے بہترین بلے باز اور عظیم فاسٹ باؤلر کو ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھنے کا موقع فراہم کردے گی۔

پلاٹینئم کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے— فوٹو بشکریہ پی سی بی
پلاٹینئم کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے— فوٹو بشکریہ پی سی بی

ڈیل اسٹین نے پہلی بارخود کو ایچ بی ایل پی ایس ایل کے لیے رجسٹرڈ کیا ہے جس سے لیگ کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

لیگ میں شرکت کے لیے آئندہ سال پاکستان آنے والے ڈیل اسٹین نے آخری بار 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی مداحوں کے لیے کرکٹ ہی سب کچھ ہے اور وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ڈرافٹ پول کے ذریعے اس کا حصہ بننے جارہے ہیں۔

اسٹین کے ہم وطن ہاشم آملا کے علاوہ ورلڈکپ کی فاتح انگلینڈ ٹیم کے معین علی، جیسن رائے، ایلکس ہیلز، عادل رشید سمیت 28 غیرملکی کرکٹرز نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کی رجسٹریشن کرلی ہے۔

8 ممالک کے 28 کھلاڑیوں میں سے 7 کا تعلق انگلینڈ، جنوبی افریقہ کے 6، ویسٹ انڈیز کے 5، آسٹریلیا اور افغانستان سے 3،3، سری لنکا کے دو جبکہ ایک ایک کھلاڑی کا تعلق نیوزی لینڈ اور نیپال سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹر شرجیل خان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

پلاٹینئم کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست میں انگلینڈ کے معین علی، ہیری گرنی، ایلکس ہیلز، کرس جارڈن، لیام پلنکٹ، عادل رشید اور جیسن رائے کے ساتھ ساتھ نیپال کے سندیپ لیمی چین اور نیوزی لینڈ کے کولن منرو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا، جین پال ڈومینی، کولن انگرام، رلی روسو، ڈیل اسٹین اور عمران طاہر کے ساتھ ساتھ سری لنکا کے اینجلو میتھیوز اور تھیسارا پریرا بھی پلاٹینم کیٹیگری کا حصہ ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیوین براوو، ایون لوئس، سنیل نارائن اور کیرون پولارڈ کے ہمراہ افغانستان کے محمد نبی، مجیب الرحمٰن اور راشد خان بھی صف اول کی کیٹیگری میں شامل ہیں جبکہ آسٹریلیا کے ڈینیئل کرسچن، بین کٹنگ اور کرس لن بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہیں۔

ابتدائی فہرست میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد میں آئندہ ہفتے اضافے کا امکان ہے اور ڈرافٹ پول کے لیے کھلاڑیوں کو طے شدہ کٹیگریز میں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹریڈ اور ریلیز بھی کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم اور اشد شفیق نے 47 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا

لیگ میں پانچ کیٹیگریز شامل ہیں جن میں پلاٹینم، ڈائمنڈ، گولڈ، سلور اور ایمرجنگ شامل ہیں اور ہر اسکواڈ میں کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 18 کھلاڑی شامل ہوں گے۔

اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں ہر ٹیم کو پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ کیٹیگری سے تین، تین، سلور کیٹیگری سے پانچ جبکہ ایمرجنگ اور سپلیمنٹری کیٹیگری سے دو، دو کھلاڑی منتخب کرنے کا اختیار ہو گا۔

ہر فرنچائز کو پہلی 9 باریوں میں 3 غیرملکی کھلاڑیوں کو منتخب کرنا ہو گا جبکہ 16 رکنی اسکواڈ میں 11 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی ہوگی۔

پلیئنگ الیون میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 4غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت لازمی ہوگی اور ہر فرنچائز گزشتہ اسکواڈ میں شامل 8 کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے جس کے لیے ری ٹینشن ونڈو یکم دسمبر کو بند ہوگی۔

ہر فرنچائز ایک کھلاڑی کو ایمبیسڈر اور ایک کو مینٹور مقرر کرسکتی ہے جبکہ ری ٹینشن کے موقع پر ان کی کٹیگری میں ایک درجے تنزلی کی جاسکتی ہے۔

کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ڈرافٹ کا عمل دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہوگا جس میں نظرثانی کے بعد ان کو جو معاوضہ دیا جائے گا اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

  • پلاٹینم کیٹیگری میں 23 ملین سے 34 ملین پاکستانی روپے( 147 ہزار تا218 ہزارامریکی ڈالر)

  • ڈائمنڈ کیٹیگری میں 11.5ملین سے 16 ملین پاکستانی روپے( 73 ہزار تا103 ہزارامریکی ڈالر)

  • گولڈ کیٹیگری میں 6.9ملین سے 8.9ملین پاکستانی روپے( 44ہزار تا58 ہزارامریکی ڈالر)

  • سلور کیٹیگری میں 2.4 ملین سے 5.4ملین پاکستانی روپے( 15 ہزار تا35 ہزارامریکی ڈالر)

  • ایمرجنگ کیٹیگری میں 1ملین سے 1.5ملین پاکستان روپے( 6.5ہزار تا9.5 ہزارامریکی ڈالر)

اختیاری سپلمنٹری راؤنڈ کے بجٹ کی حد 19 ملین روپے (120ہزار امریکی ڈالر) مختص کی گئی ہے جس میں ہر ٹیم کو 2 کھلاڑیوں کے انتخاب کا اختیار ہوگا۔