آرڈیننس کے خلاف درخواست: اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے درخواست دائرکی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے درخواست دائرکی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹسز جاری کردیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عمر گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ صدارتی آرڈیننس جو ہنگامی حالات میں نافذ کیے جاسکتے ہیں وفاقی حکومت انہیں حکومت کے معمولات چلانے کے لیے نافذکررہی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ اعلیٰ ادارہ ہے اور ایسے مسائل وہیں حل ہوجانے چاہئیں تھے۔

مزید پڑھیں: 7 نومبر کو نافذ کیے گئے آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے الزام عائد کیا کہ صدر عارف علوی اپنے صوابدیدی اختیارات کو منصفانہ طریقے سے استعمال نہیں کررہے اور کہا کہ عدالت نے پہلے ہی کہا تھا کہ صدر عارف علوی نے آئین کی خلاف ورزی کی تھی اور اس کے لیے ان کا مواخذہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کبھی ایسا نہیں کہا تھا اور عدالت سے غلط معلومات منسوب کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے خبردار کیا۔

اس پر بیرسٹر محسن نے فوری طورپر معذرت کی اور عدالت کو مستقبل میں محتاط رہنے کی یقین دہانی کروائی۔

خیال درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 89 کے تحت صدر کو آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے جو عارضی قانون سازی کی شکل ہے اور 2 صورتحال میں ہوسکتی ہے جب سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں سے کسی کا اجلاس نہ ہو اور ایسے حالات موجود ہوں جہاں فوری اقدام اٹھانا لازمی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: 5 کروڑ سے زیادہ کرپشن کرنے والوں کو جیل میں ’سی‘ کلاس دی جائے گی، آرڈیننس نافذ

اس میں مزید کہا گیا تھا کہ صدر مملکت وفاقی حکومت کے مشورے کے مطابق اور اس پر عمل کرنے پر پابند ہیں جس کا مطلب ہے کہ آرڈیننس کے نفاذ کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

درخواست کے مطابق صدر مملکت نے 30 اکتوبر 2019 کو ایک ہی روز میں 8 آرڈیننس نافذ کیے تھے۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق 24 ستمبر 2018 سے لے کر اب تک صدرِ مملکت 20 آرڈیننس نافذ کرچکے ہیں۔


یہ خبر 14 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی