5 کروڑ سے زیادہ کرپشن کرنے والوں کو جیل میں ’سی‘ کلاس دی جائے گی، آرڈیننس نافذ

اپ ڈیٹ 01 نومبر 2019

ای میل

ایک آرڈیننس میں حکومت نے وہسل بلورز کو تحفظ فراہم کیا ہے 
— فائل فوٹو: اے پی پی
ایک آرڈیننس میں حکومت نے وہسل بلورز کو تحفظ فراہم کیا ہے — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی کابینہ سے منظور کیے جانے والے مفاد عامہ کے 8 آرڈیننس نافذ کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کیے جانے والے آرڈیننس کا تعلق عدلیہ سے ہے، جن میں سب سے اہم نیب آرڈیننس ترمیم سے متعلق ہے جو ملک میں موجود ہائی پروفائل سیاسی قیدیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

چند روز قبل وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے حکومت کو آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کرنے پر مجبور کرنے کا الزام اپوزیشن پر عائد کیا تھا۔

وزیر قانون نے کہا تھا کہ 'آج پاکستان کے لیے ایک بڑا دن ہے کیونکہ کابینہ اجلاس میں مفاد عامہ کے 8 آرڈیننس کی منظوری دی گئی ہے'۔

نافذ کیے گئے آرڈیننسز درج ذیل ہیں:

  1. لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ آرڈیننس
  2. سول پروسیجر کوڈ (ترمیمی) آرڈیننس
  3. انفورسمنٹ آف ایڈمنسٹریشن آف ویمن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس
  4. بے نامی ٹرانزیکشن آرڈیننس
  5. سپیریئر کورٹس (کورٹ ڈریس اینڈ موڈ آف ڈریس) آرڈریننس
  6. نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی (ترمیم) آرڈیننس
  7. لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس
  8. وہسل بلوورز ایکٹ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: کابینہ نے ’مفاد عامہ‘ کے 8 آرڈیننس کی منظوری دے دی، وزیر قانون

ان میں سب سے اہم آرڈیننس نیب آرڈیننس میں ترمیم کا ہے جس کے تحت وہ افراد جو 5 کروڑ روپے یا زائد کی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہے ہوں انہیں صرف ’سی‘ کلاس جیل میں رکھا جائے گا۔

وزیر قانون نے مذکورہ ترمیم سے متعلق آرڈیننس کو صرف مخصوص افراد کے لیے متعارف کروانے اور نیب کی تحویل میں موجود 2 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے جانے کے تاثر کو مسترد کیا تھا۔

علاوہ ازیں حکومت کا ماننا ہے کہ 'سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) سے سول عدالتوں میں برسوں سے جاری مقدمات جلد سنیں جائیں گے اور لوگوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا'۔

ایک اور آرڈیننس میں حکومت نے وہسل بلورز کو تحفظ فراہم کیا ہے جس کے تحت کسی محکمے میں کرپشن کی اطلاع دینے والے شخص کو مکممل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اس حوالے سے وزیر قانون نے بتایا تھا کہ تحفط کے علاوہ اگر مجرم سے کوئی واجبات وصول کیے گئے تو اس کا 20 فیصد اطلاع دینے والے کو دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ آرڈیننس کے تحت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے سکسیشن سرٹیفکیٹ کے اجرا کا طریقہ کار یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت قانون نے وفاقی کابینہ سے مزید 6 آرڈیننسز کی منظوری طلب کرلی

علاوہ ازیں انفورسمنٹ آف ایڈمنسٹریشن آف ویمن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس کے تحت خواتین کو وراثت میں حق کی ضمانت دی جائے گی۔

اس بل کا مقصد خاندان کی جانب سے زبردستی، دھوکا دہی، جعل سازی کے ذریعے خواتین کو جائیداد میں ان کے حق سے محروم کرنے سے روکنا ہے۔

لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس میں معاشرے کے غریب اور کمزور طبقے کو قابلِ حصول، قابل رسائی، مستحکم، قابل اعتماد اور جوابدہ قانونی امداد، مالی اور دیگر خدمات فراہم کرکے انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار مرتب کرنا ہے۔

مذکورہ آرڈیننس میں خواتین اور بچوں اور خصوصاً جنسی استحصال سے متعلق معاملات میں ترجیح دی گئی ہے۔


یہ خبر یکم نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی