'اب ایک اجتماع کے بجائے ملک بھر میں اجتماع کا سلسلہ شروع ہوگیا'

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوری انداز میں ہے اور یہ ایک جمہوری حق ہے—فوٹو: ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوری انداز میں ہے اور یہ ایک جمہوری حق ہے—فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم آزادی مارچ کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اب ایک اجتماع کے بجائے ملک بھر میں اجتماع کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

چوہدری برادران کے ہمراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تقریباً تمام بڑی شاہراہوں پر کارکن اور عوام جمع ہیں۔

مزید پڑھیں: کسی کا باپ ہم سے اس حکومت کو جائز نہیں منواسکتا، مولانا فضل الرحمٰن

انہوں نے نواز شریف سے متعلق کہا کہ سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے دیا جائے۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ کارکنوں کو واضح ہدایت دی گئی کہ مریض، مسافروں، خواتین اور میت وغیرہ کا خاص خیال رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اجتماع' کی جگہ ہی ایسی کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے جو ایمرجنسی میں فیصلہ کر سکے گی اور لوگوں کو جو ریلیف چاہیے وہ لوگوں کو دیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوری انداز میں ہے اور یہ ایک جمہوری حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم نےحکومت کا غرور خاک میں ملا دیا، مولانا فضل الرحمٰن

جے یو آئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ اگر وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دے چکے ہوتے تو شاید یہ معاملہ پورے ملک میں نہ پھیلتا۔

انہوں نے کہا کہ 15 ملین مارچ کرکے ثابت کردیا کہ ہم غیر تشدد اور پرامن لوگ ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پورے ملک میں مظاہرے ہوں گے اور اس پر قائم و دائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومتوں اور ذیلی سطح کے انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اور ہمارے لوگ بھی مکمل طورپر امن رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قوم کی جنگ لڑ رہےہیں، ہم شہریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں پر ٹماٹر 350 روپے کلو ملتا ہو تو عام آدمی کیسے گزارا کرے گا۔

مزیدپڑھیں: ہر ادارہ اپنے دائرے میں کام سے کام رکھے تو کوئی جھگڑا نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ روز آزادی مارچ کے پلان 'بی' پر عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ 'آپ کو پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے مقصد کے حصول کے قریب پہنچ گئے ہیں، ہم آزادی مارچ کے 10 روز میں کئی مقاصد حاصل کیے، لوگ سمجھ رہے تھے دھاندلی بہت منظم طریقے اور منصوبہ بندی کے ساتھ ہوئی اور اب اس کے نتائج اور حکومت کو تسلیم کرنا پڑے گا لیکن موجود لوگوں نے ان کے اس گھمنڈ کو توڑ دیا ہے۔'

انہوں نے کہا تھا کہ 'جس الیکشن اور اس کے غلط نتائج کے ذریعے ناجائز حکومت بنائی گئی یہ جمہوریت اور ملک کے آئین پر وار تھا، اس مارچ نے ملک کے آئین کو تحفظ دیا ہے اور اس کے شرکا کے ہاتھ ناجائز حکومت کے گریبان سے بس تھوڑے ہی پیچھے ہیں۔'