توہین آمیز زبان کے استعمال پر جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2019

ای میل

کور کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ناقابل قبول زبان کی مذمت کی — فائل فوٹو: فیس بک
کور کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ناقابل قبول زبان کی مذمت کی — فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کی اور حکمرانوں کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت اور بیرون ملک علاج کے لیے ضروری روانگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نواز شریف کی جانب سے بیرون ملک جانے سے متعلق پابندی ہٹانے سے متعلق درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو قبول کرے گی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں میڈیا کے رویے سے متعلق مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور حکومت کی میڈیا ٹیم کی کارکردگی کے جائزے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’آزادی مارچ‘ سے متعلق ہدایت نامے سے دھرنا طویل ہونے کا اشارہ

کور کمیٹی کے اجلاس میں کابینہ میں ممکنہ رد و بدل کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا اور آگاہ کیا گیا کہ جلد ہی اس حوالے سے معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی لیکن کوئی نیا اضافہ نہیں ہوگا۔

اجلاس میں شریک ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی، اسلام آباد میں دھرنے کے دوران جے یو آئی (ف) کی تقریروں پر برہم تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ہمیں ایسی تقریروں کو معمول کے انداز میں نہیں لینا چاہیے، جے یو آئی (ف) کے رہنما بھی اسی چیز کا سامنا کریں جس کا دیگر سیاستدانوں اور مصیبت پیدا کرنے والے افراد کو کرنا پڑا تھا'۔

اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ کور کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ناقابل قبول زبان کی مذمت کی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 'اس دھرنے کی وجہ سے کشمیر کاز بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا'۔

اس میں مزید کہا گیا کہ کمیٹی نے دھرنے کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے کی گئی تقریروں میں قانون کی خلاف ورزیاں معلوم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 'کمیٹی کا خیال تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے دھرنے کا حصہ بن کر اپنی موقع پرستی کا اظہار کیا تاکہ وہ بچنے کا راستہ تلاش کرسکیں'۔

ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت گرانے میں ایک آدھ جھٹکے کی دیر ہے، مولانا فضل الرحمٰن

اس حوالے سے ذرائع نے کہا کہ 'اگر عدالت نواز شریف کی روانگی کے لیے حکومت کی شرائط ختم کرنے کا کہتی ہے تو ہم کردیں گے لیکن اس سلسلے میں ایک مجرم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آئے گی'۔

علاوہ ازیں ذرائع نے انکشاف کیا کہ وفاقی کابینہ میں جلد تبدیلیوں کا امکان ہے اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو وزیر برائے منصوبہ بندی بنائے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت وزرا برائے مواصلات، ریلوے اور پلاننگ کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ 'یہاں تک کہ چین، ان وزرا کی جانب سے کارکردگی دکھانے میں ناکام ہونے کے باعث ان سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں'۔