چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے تقرر کیلئے عہدے کی دوڑ

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2019

ای میل

بائیں سے دائیں لیفٹینننٹ جنرل سرفراز ستار، لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا، لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز—تصویر: ڈان
بائیں سے دائیں لیفٹینننٹ جنرل سرفراز ستار، لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا، لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز—تصویر: ڈان

اسلام آباد: موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیف اسٹاف (سی جے سی ایس سی) جنرل زبیر حیات کے 27 نومبر کو ریٹائر ہونے کے بعد جوائنٹ چیف اسٹاف ہیڈ کوارٹر میں نئے سربراہ کی آمد کا وقت آگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت جنرل زبیر حیات کے پیش رو کا اعلان آئندہ چند روز میں کردے گی جن کے عہدے کے بڑے دعویداروں میں اسٹریٹجک پلان ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار، چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا اور کراچی ہیڈ کوارٹر کے کور کمانڈر 4 لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز شامل ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت یقیناً وزارت دفاع کی تجاویز پر غور کررہی ہوگی کہ ان میں سے کس کو ترقی دی جائے، 2013 اور 2016 میں 4 فور اسٹار جنرلز میں سے 2 آسامیاں پر کرنے کی شدید بحث کے برعکس اس وقت یہ دوڑ صرف ایک آسامی کی ہے کیوں کہ حکومت اگست میں چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کا اعلان کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کے 4 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے رینک پر ترقی

پاک فوج کے موجودہ ڈھانچے میں چیئرمین جوائنٹ چیف اسٹاف کا عہدہ تکنیکی لحاظ سے آرمی چیف سے بڑا ہے جس کا اختیار آرمی، بحریہ اور فضائیہ، تینوں افواج پر ہے لیکن عملی طور پر آرمی چیف زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور اس عہدے کی تعیناتی پر عوام کی دلچسپی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اصولی طور پر چیف آف جوائنٹ اسٹاف مسلح افواج کا سب سے اعلیٰ افسر ہوتا ہے جو دفاعی اور سیکیورٹی معاملات میں حکومت کے مشیر کے طور پر کام کرتا ہے جس کے فرائض منصبی میں ’جوائنٹیز‘ کی ترقی اور سروسز کے مابین تعاون بھی شامل ہوتا ہے۔

اس کے باوجود عہدے کے عدم اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل زبیر حیات کے 3 سالہ دور میں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا اجلاس صرف ایک مرتبہ 3 جولائی 2018 کو ہوا جبکہ اس کا اجلاس سہ ماہی ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

دفاعی امور پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا عہدہ آپریشنل اتھارٹی نہ ہونے کے سبب محض رسمی حیثیت رکھتا ہے اور نئی تعیناتی سے جنرل باجوہ کو مزید طاقت حاصل ہوجائے گی کیوں کہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز میں موجود تمام جنرل ان سے جونیئر ہوں گے۔

اس عہدے کے تقرر سے ایک اور مسئلہ منسلک ہے اور وہ یہ کہ تینوں افواج کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے یہ عہدہ تینوں سروسز کے پاس ہونا چاہیے لیکن اب تک اس پر آرمی کی اجارہ داری ہے خصوصاً نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے قیام کے بعد کیوں کہ نیوکلیئر کمانڈ اور اسٹریٹجک اثاثوں کے اہم معاملات پاک فوج کنٹرول کرتی ہے۔

یوں اب تک آنے والے 16 چیئرمین میں سے 13 کا تعلق آرمی، 2 کا نیوی اور ایک کا ایئرفورس سے تھا جبکہ آرمی میں یہ بھی عہدہ زیادہ تر انفینٹری سے تعلق رکھنے والے افسر کو دیا جاتا ہے۔

تاہم چیئرمین جنرل زبیر کا تعلق آرٹلری سے تھا اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کے بعد انفنٹری کے پہلے 4 اسٹار جنرل تھے۔

عہدے کے امیدواران

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار اس وقت ایس پی ڈی کے سربراہ مقرر ہیں جو این سی اے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے، اس سے قبل وہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں اور چاروں جرنیلوں میں سینیارٹی کے لحاظ سے سب سے جونیئر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازم کی توسیع نقصان دہ نہیں مگر آرمی چیف کا معاملہ الگ ہے

لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا گزشتہ برس اگست میں چیف آف جنرل اسٹاف بنے تھے جو آرمی چیف کے بعد دوسرا اہم ترین عہدہ ہے، انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کام بھی کیا ہے اور حکومت کی جانب سے تعیناتی پر غور کرتے ہوئے دونوں 4 اسٹار جنرلز کے درمیان ورکنگ رلیشن بھی مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔

کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں جن کا تعلق آرٹلری سے ہے جبکہ وہ انٹیلیجنس کا پس منظر بھی رکھتے ہیں۔