یوکرین کے معاملے میں ٹرمپ کے احکامات پر عمل کیا، اعلیٰ امریکی سفارتکار

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2019

ای میل

گورڈن سونڈلینڈ مواخذے کی کارروائی میں بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی
گورڈن سونڈلینڈ مواخذے کی کارروائی میں بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی

یورپی یونین میں امریکا کے سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے کارروائی کی سماعت کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے یوکرین سے صدر کے سیاسی حریف کے خلاف کارروائی کے بدلے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے معاہدے کی کوشش ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے مطابق کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی سماعت کے دوران گورڈن سونڈلینڈ نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ امریکی صدر 2020 کے صدارتی انتخاب میں ان کے بڑے حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈال رہے تھے۔

گورڈن سونڈلینڈ کی گواہی پر سب کی خصوصی طور پر نظریں تھیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے ساتھی تھے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سونڈلینڈ نے کہا کہ 'ہم نے صدر کے حکم پر عمل کیا تھا۔'

انہوں نے کہا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارت کاروں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ان کے ذاتی وکیل اور نیویارک کے سابق میئر روڈی گیولیانی کے ساتھ کام کریں۔'

گورڈن سونڈلینڈ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے نئے صدر وولودومیئر زیلینسکی کو ملاقات کی پیشکش کی تھی جبکہ گیولیانی نے مطالبہ کیا تھا کہ کیف، عوامی سطح پر اس بات کا اعلان کرے کہ وہ اس گیس کمپنی کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جس میں جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بڑے عہدے پر فائز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

گیولیانی، زیلینسکی سے یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ بڑے پیمانے پر مسترد کی گئی اس سازشی تھیوری کی بھی تحقیقات کریں کہ یوکرین نے جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سرور پر شواہد پلانٹ کیے تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں روس نے مداخلت کی۔

گورڈن سونڈلینڈ نے کہا کہ گیولیانی کی درخواست ان تحقیقات کے بدلے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر کی امریکی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی اس بات کا واضح جواب نہیں ملا کی کہ وائٹ ہاؤس نے یوکرین کی 39 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سیکیورٹی امداد کیوں معطل کی جو روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس بات کا تعلق بھی اس تحقیقات سے تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ امداد معطل کرنے کے سخت مخالف تھے کیونکہ یوکرین کو روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ان فنڈز کی ضرورت تھی۔

گورڈن سونڈلینڈ کے اس بیان کے بعد گیولیانی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے جن کے یوکرین میں تجارتی مفادات بھی وابستہ ہیں اور جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت میں بیان ریکارڈ کرانے یا دستاویزات دینے سے انکار کردیا تھا۔

اس سے ریپبلکن کی ٹرمپ کو بچانے کی اس کوشش کو بھی نقصان پہنچے گا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سونڈلینڈ اور گیولیانی نے یوکرین میں سفارتی چینلز استعمال کرنے کے بجائے اپنے طور پر کوششیں کیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کا سنگین الزامات کے ساتھ آغاز

ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام اور مواخذے کی کارروائی

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کے مابین گفتگو کی ٹرانسکرپٹ منظر عام پرآنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور اپنے ذاتی فوائد کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کا غیر قانونی استعمال کیا۔

الزامات کے مطابق ریپبلکن صدر ٹرمپ نے یوکرین کی تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی امداد روکی اور یوکرین میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرینی حکام پر دباؤ ڈالا۔

ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور مواخذے کی کارروائی کو 'وچ ہنٹ' قرار دیا تھا۔

ان کے مواخذے کی کارروائی کے دوران اب تک کئی اہم افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں جن میں یوکرین میں قائم مقام امریکی سفیر ولیم ٹیلر کی گواہی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مواخذے کی کارروائی، ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مواخذے کی کارروائی کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے جہاں کروڑوں امریکی ناظرین اس کارروائی کو براہ راست دیکھ سکتے ہیں جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے 2020 کے صدارتی انتخاب پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ان دونوں صدور کو سینیٹ نے مواخذے کے باوجود الزامات ثابت نہ ہونے پر برطرف نہیں کیا تھا۔

تاہم 1974 میں صدر رچرڈ نکسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جہاں واٹرگیٹ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

اگر ٹرمپ پر مواخذے کی کارروائی کے دوران یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو وہ مواخذے کی بنیاد پر برطرف کیے جانے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے۔