حوثی باغیوں کا سعودی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ

29 نومبر 2019

ای میل

عرب اتحاد کی طرف سے واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی — فائل فوٹو
عرب اتحاد کی طرف سے واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی — فائل فوٹو

یمن کے حوثی باغیوں نے سرحد کے قریب سعودی کے 'اپاچے' ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق حوثیوں کے ملٹری ترجمان یحییٰ سریعا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'سعودی عرب کے اپاچے ہیلی کاپٹر کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس کے دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے اور ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔'

ابتدائی طور پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی طرف سے واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی، جو پانچ سال سے زائد عرصے سے ملٹری گروپ کے خلاف لڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے یہ حملہ عرب اتحاد کے اس بیان کے تین روز بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے یمن میں اقوام متحدہ کی جانب سے کروائے گئے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے 200 حوثی باغیوں کو رہا کردیا۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد گزشتہ دسمبر میں اتفاق کیے گئے بڑے اور طویل عرصے سے تاخیر کا شکار قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمن کی حکومت اور حوثی باغی، حدیدہ میں جنگ بندی پر رضامند

باغی رہنما محمد علی الحوثی نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا تھا اور عرب اتحاد سے تمام جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

رواں برس ستمبر میں حوثی باغیوں نے سالوں سے زیرِ قبضہ علاقوں میں گرفتار کیے گئے سیکڑوں افراد کو رہا کردیا تھا۔

حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی جانب سے جنگ کے آغاز سے کئی ماہ قبل 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔

قیدیوں کا تبادلہ گزشتہ برس سویڈن میں اقوام متحدہ کی جانب سے کروائے جانے والے معاہدے کا حصہ ہے، جس میں حدیدہ کی بندرگاہ پر جنگ بندی شامل ہے۔

خیال رہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف 2015 میں سعودی اتحادی اور یمن کی حکومت نے کارروائی شروع کی تھی جو عالمی طور پر تسلیم شدہ یمن کے صدر منصور ہادی کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا حملہ، ایک شہری جاں بحق

یمن میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ بارہا متبنہ کرچکی ہے کہ یمن میں خوراک اور دیگر انسانی ضروریات کی کمی کے باعث انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے۔

سعودی عرب کے اتحادی الزام عائد کرتے ہیں کہ حوثی باغیوں کو ایران کی مدد حاصل ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کر رہا ہے۔

رواں برس سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ہونے والے حملے میں بھی امریکا اور سعودی عرب نے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا تھا تاہم سعودی حکومت نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کے بعد ردعمل دیا جائے گا۔