سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا حملہ، ایک شہری جاں بحق

اپ ڈیٹ 24 جون 2019
حوثی باغیوں نے دو ایئرپورٹس میں حملے کا دعویٰ کیا—فوٹو:اے ایف پی
حوثی باغیوں نے دو ایئرپورٹس میں حملے کا دعویٰ کیا—فوٹو:اے ایف پی

سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ابھا ایئرپورٹ میں یمن کے حوثی باغیوں کے ایک حملے میں شامی باشندہ جاں بحق اور دیگر 21 افراد زخمی ہوگئے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحادیوں کا کہنا تھا کہ یمنی باغیوں نے ابھا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا اور احاطے میں قائم مکڈونلڈ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور 18 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحادیوں کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ایرانی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ابھا ایئرپورٹ پر حملہ کیا جس میں ایک شامی باشندہ جاں بحق ہوئے اور 21 شہری زخمی ہوئے’۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سعودی عرب، مصر، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جبکہ ان زخمیوں میں 3 خواتین ور دو بچے بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ، 26 افراد زخمی

اتحادیوں کی جانب سے جاری بیان میں حوثیوں کے حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے سعودی عرب کو متعدد مرتبہ حوثی باغیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

باغیوں کے ٹی وی المصرہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ابھا اور جیزان ایئرپورٹس پر ڈرون حملے کیے گئے جبکہ سعودی اتحادیوں نے جیزان ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔

ابھا ایئرپورٹ حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایئرپورٹ کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہوچکی ہیں۔

یاد رہے کہ 12 جون کو حوثی باغیوں کی جانب سے ابھا ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا تھا جہاں 26 شہری زخمی ہوئے تھے جس کے بعد سعودی اتحادیوں نے ان کارروائیوں کے خلاف انتہائی اقدام کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:حوثی قبائل کا سعودی ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا دعویٰ

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے ان حملوں کو وار کرائم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر سعودی عرب میں شہری مقامات پر حملوں کو روک دیں۔

حوثی باغیوں نے سعودی ایئرپورٹ پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے جہاں ایران نے امریکی ڈرون کو گرایا تھا جس کے بعد میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکی نے ایران پر سائبر حملے کیے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے گزشتہ روز ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں سے خطے کی صورت حال میں کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

سعودی عرب مسلسل ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے لیکن ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے، پاکستان کا اظہار تشویش

یمن میں 2015 میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر عبدالرب منصور ہادی کے خلاف بغاوت کے بعد سعودی اتحادیوں نے مداخلت کی تھی اور سرحد کو بھی بند کردیا تھا۔

بعد ازاں اتحادیوں نے یمن پر بدترین فضائی حملے بھی کیے تھے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی بحران پیدا ہونے سے بھی خبردار کردیا تھا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں