چیئرمین ایف بی آر نے ممکنہ چھاپوں پر تاجروں کے تحفظات دور کردیے

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2019

ای میل

چیئرمین ایف بی آر نے   اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے مسائل کے حل میں حکام کی مدد کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو: اے پی پی
چیئرمین ایف بی آر نے اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے مسائل کے حل میں حکام کی مدد کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کے چیئرمین شبر زیدی نے تاجر برادری کو یقین دہانی کروائی ہے کہ انکم ٹیکس یا سیلز ٹیکس جمع کرنے کے لیے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے مراکز پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔

ساتھ ہی چیئرمین ایف بی آر نے کاروباری افراد اور تاجروں سے اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے مسائل کے حل میں حکام کی مدد کا مطالبہ کردیا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ وہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیش آف ان لینڈ ریونیو (آئی آر) کو چھاپے مارنے سے گریز کرنے کی ہدایت کریں گے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف ہدف کے حصول کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ

اس موقع پر شبر زیدی نے ایف بی آر رکن کے رینک کے برابر عہدیدار کو جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دینے سے متعلق تجویز پر اتفاق کیا جو کسی فرد کے خلاف شکایات یا الزامات کا جائزہ لے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو چھاپہ مارنے کی اجازت دے گا۔

واضح رہے کہ یہ حساس معاملہ اس وقت زیر غور آیا جب آر سی سی آئی وفد میں شامل کچھ اراکین نے ایف بی آر کے عہدیداران کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ مارے جانے والے چھاپوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو بتایا کہ چھوٹے تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے کیس کی بنیاد پر ٹرن اوور ٹیکس میں کمی کی جائے گی اور اس کی حد میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’حج کمپنیوں کی جانب سے سیکشن 152 کے تحت سعودی عرب کی جانے والی ادائیگیوں کا جائزہ لیا جائے گا اور انہیں ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں:امیر اپنا ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنا رہے ہیں، وزیراعظم

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ’سیلز ٹیکس سے رجسٹرڈ ود ہولڈنگ ایجنٹس کے لیے تھریشولڈ میں اضافہ کیا جائے گا، درآمدکنندگان اور ویب پر مبنی رجسٹریشن پیکیج ڈبلیو ای بی او سی کو آسان بنایا جائے گا‘۔

علاوہ ازیں آر سی سی آئی کے صدر صبور ملک نے کہا کہ ’معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے اور ہم بھی متاثر ہورہے ہیں لیکن ہمیں ایف بی آر کے ساتھ اشتراک کی ضرورت ہے کیونکہ معیشت کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری مراکز کی بندش اور ان پر چھاپوں سے منفی پیغام جاتا ہے جس سے متعلقہ کاروبار کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ آر سی سی آئی کے وفد میں سہیل الطاف، جلیل احمد ملک، اسد مشہدی، راجا امیر اقبال اور شاہد سلیم شامل تھے جبکہ ایف بی آر رکن برائے ٹیکس پالیسی بھی اجلاس میں شریک تھے۔

صبور ملک نے ایف بی آر حکام کی جانب سے کاروباری مراکز پر چھاپوں کے طریقہ کار کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی چھاپے کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال سے تاثر جاتا ہے کہ کسی کالعدم یا دہشت گرد تنظیم کا سرگرم کارکن گرفتار ہوا ہے‘۔


یہ خبر 30 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی