'25 برس میں جنوبی ایشیا میں کم عمری کی شادیوں کی شرح میں کمی'

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2019

ای میل

گزشتہ 3 دہائیوں میں پرائمری اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں 40 فیصد سے زائد کمی آئی— فائل فوٹو؛ب رائٹرز
گزشتہ 3 دہائیوں میں پرائمری اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں 40 فیصد سے زائد کمی آئی— فائل فوٹو؛ب رائٹرز

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنوبی ایشیا میں 25 برس سے زائد عرصے کے دوران کم عمری کی شادیاں تقریباً نصف ہوگئیں اور اس کی شرح 59 فیصد سے کم ہوکر 30 فیصد پر آگئی۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) کی جانب سے کنونشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے 30 سال مکمل ہونے پر جاری کی گئی، جو تاریخ میں انسانی حقوق کا وسیع ترین معاہدہ ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ 30 برس میں دنیا بھر کے بچوں سے متعلق تاریخی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا لیکن یہ نشاندہی بھی کی گئی اکثر غریب ترین بچوں تک اس کے اثرات نہیں پہنچے۔

ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ 3 دہائیوں میں پرائمری اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں 40 فیصد سے زائد کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادی کے خلاف مجوزہ بل پر سیاسی جماعتیں تقسیم

رپورٹ کے مطابق 30 برس قبل پولیو کے نتیجے میں روزانہ ایک ہزار بچے معذور یا جاں بحق ہوجاتے ہیں، آج ان میں سے 99 فیصد کیسز کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔

تاہم رپورٹ میں بچوں کے حقوق خاص طور پر کمزور طبقے کے حوالے سے نمایاں رکاوٹوں کی بھی نشاندی کی گئی اور بتایا گیا کہ 5 برس سے کم عمر 15 ہزار بچے اب بھی بیماریوں کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں، جن میں زیادہ تر بیماریاں قابل علاج ہیں اور دیگر کی روک تھام کے اسباب موجود ہیں۔

اسی طرح دنیا بھر کے بچوں کو بقا اور کامیابی کے نئے خطرات جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی اور آن لائن ڈرانے یا دھمکانے (bullying) کا بھی سامنا ہے۔

کامیابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رہورٹ میں بتایا گیا بچوں کی بقا اور صحت میں حاصل ہونے والے فوائد کو اسکول تک رسائی اور خطرناک عوامل سے تحفظ میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 1990 میں پرائمری اسکول کی عمر کے 20 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے تھے جبکہ اب یہ تناسب عالمی سطح پر 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الفاظ بچوں کی ہلاکت پر انصاف نہیں دلا سکتے، یونیسیف کاخالی اعلامیہ

پرائمری تعلیم تک رسائی میں صنفی فرق افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے علاوہ اکثر ممالک میں بڑے پیمانے پر ختم ہوچکا ہے۔

اسی طرح بچوں کے حقوق کے حوالے سے نئے خطرات بھی سامنے آرہے ہیں اور والدین معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت پر بھی شک کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں دیگر چیلنجز میں اکثر حکومتوں اور عوام کے درمیان بچوں کے حقوق کے حوالے سے اطمینان، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں نوجوان افراد کی آبادی میں اضافہ شامل ہے۔

رپورٹ میں پرائمری تعلیم میں اضافے کو گزشتہ 3 دہائیوں میں بچوں اور نوجوانوں کے متعلق اہم کامیابی کے طور پر بتایا گیا ہے۔

5برس سے کم عمر اموات میں فرق:

امیر گھرانوں کے بچوں کے مقابلے میں غریب گھرانوں کے بچوں میں پانچویں سالگرہ سے قبل اموات کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

کچھ ممالک میں غریب ترین گھرانوں کے بچوں میں امیر ترین گھرانوں کے بچوں کے مقابلے میں 5 برس سے کم عمر میں اموات کا امکان 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قوت مدافعت :

علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2017 کے درمیان 72 ممالک میں ان کے شہری علاقوں میں امیونائزیشن کی شرح دیہی علاقوں میں مضافات کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ تھی۔

2018 میں تقریبا 2 کروڑ بچوں میں ویکسین کےذریعے بچاؤ کرنے والی بیماریاں لگنے کا خطرہ موجود تھا۔


یہ خبر 2 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی