ملائیشیا میں 27 برس بعد پولیو کا کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2019

ای میل

ملائیشیا کو سن 2000 میں پولیو سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
ملائیشیا کو سن 2000 میں پولیو سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کوالالمپور : ملائیشیا کے صحت حکام نے 27 سال بعد ملک میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کی تشخیص جزیرہ بورنیو میں 3 ماہ کی بچی میں ہوئی۔

ڈان اخبار میں شائع امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل نور ہاشم عبداللہ نے کہا کہ مشرقی ریاست صباح کے علاقے توران سے بچی کو بخار اور اعصابی کمزوری کے بعد انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا تھا۔

نور ہاشم نے کہا کہ ’ بچی اس وقت علیحدہ وارڈ میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت بہتر ہے لیکن تنفس کے لیے سپورٹ کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچی میں 6 دسمبر کو پولیو کی تشخیص ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: ملک میں پولیو وائرس کی معدوم قسم کے 7 کیسز کی تشخیص

گزشتہ 3 دہائیوں سے دنیا میں پولیو کے خلاف جنگ میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں پولیو کے صرف 33 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

ملائیشیا کو سن 2000 میں پولیو سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا جبکہ ملک میں پولیو کا آخری کیس 1992 میں سامنے آیا تھا۔

اس سے قبل فلپائن میں پولیو کا کیس سامنے آیا تھا جس کی ریاست صباح کے ساتھ مشترکہ سمندری سرحد ہے اور فلپائن میں رواں برس ستمبر میں تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزرائے اعلیٰ کو انسداد پولیو مہم کی قیادت کرنے کی ہدایت

نور ہاشم عبداللہ نے مزید بتایا کہ ٹیسٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشین بچی جس وائرس کا شکار ہوئی اس کا جینیاتی تعلق فلپائن میں تشخیص کیے گئے وائرس سے ملتا ہے۔

دوسری جانب ماہر عوامی صحت ٹی جایابالان نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ پولیو کا کیس سامنے آنے سے حیران نہیں ہوئے کیونکہ ملائیشیا میں معمول کے حفاظتی ٹیکے لازمی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ پہلا کیس ممکنہ طور پر شروعات ہے اور اس رجحان میں اضافے کا امکان ہے‘۔

جایابالان نے کہا کہ لوگوں کا ایک چھوٹا گروہ گمراہ کن معلومات کی وجہ سے ویکسینیشن سے انکار کرتا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ چند برسوں میں ملائیشیا میں کئی بچے ڈپتھیریا کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے تھے کیونکہ انہیں اس مرض سے بچاؤ کی ویکسین نہیں دی گئی تھی۔

نور ہاشم نے مزید بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ بچی کے قریب رہنے والے 15 برس سے کم عمر 23 بچوں کو بھی انسداد پولیو کی ویکسین نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ مایوس کن صورتحال ہے کیونکہ مرض کے پھیلاؤ کو صرف پولیو ویکسین سے روکا جاسکتا ہے‘۔

نور ہاشم کے مطابق مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے تحت ویکسینیشن کی سرگرمیاں اور مانیٹرنگ کی جائے گی۔


یہ خبر 9 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی