وزیراعظم نے پاکستان کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

طلبہ کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ انسان جو بھی خواب دیکھتا ہے وہ ممکن ہے—تصویر: ڈان نیوز
طلبہ کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ انسان جو بھی خواب دیکھتا ہے وہ ممکن ہے—تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوری طرز حکمرانی کے بجائے بادشاہی نظام رائج ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا۔

نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں پاکستان کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کی افتتاحی تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نبی ﷺ کے اصولوں پر عمل کر کے مدینہ کی ریاست 700 سال تک قائم رہی اور مسلمان عروج پر پہنچے آج ان اصولوں پر مغرب زیادہ عمل پیرا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ’سائنس اور ٹیکنالوجی پارک نسٹ کے نواح میں قائم کیا گیا ہے جسے ماحولیاتی نظام کے حوالے سے ملک کے سب سے بڑے جدت پرمبنی اور تحقیقی ادارے کے طور پر سراہا جارہا ہے‘۔

مذکورہ پارک میں 40 سے زائد کمپنیوں کے دفاتر ہیں جن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوان کہتا ہے عمران خان کرپٹ لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاتا، وزیراعظم

یونیورسٹی انتظامیہ کے بیان کے مطابق یہ پارک ممتاز محققین، جدت پسندوں اور کاروباری اداروں کے لیے لانچ پیڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار اور شرح انتہائی کم ہوچکی ہے تاہم سب سے اچھا معیار اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہے لہٰذا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

طلبہ کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ انسان جو بھی خواب دیکھتا ہے وہ ممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہی نہیں ہوتا جس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا ویژن بڑا کریں جو اپنی ذات سے بالاتر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی پڑا آدمی بنا جس نے اپنی ذات سے باہر نکل کر کام کیا، دنیا امیر لوگوں کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان سے نوجوان آبادی ہماری طاقت بن جائے گی، عمران خان

وزیراعظم نے بل گیٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیسے کو اپنی ضروریات تک محدود رکھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ دل کی بات سنیں کیوں کہ جذبہ صلاحیت پر غالب آجاتا ہے اور جذبہ ہو تو انسانی 16 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ اس صورت میں نکلتا ہے جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کریں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کا عزم کریں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات سیکھنے کا موقع ہوتا ہے اور انسان کا اصل امتحان برے وقت سے نکلنا ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے طلبہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ زندگی میں آنے والا ہر برا وقت مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کرنا بند کردیتے ہیں آپ کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا عثمان بزدار کو اچھے کاموں کی تشہیر کا مشورہ

انہوں نے نوجوانوں کو رول ماڈل کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا رول ماڈل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود رول ماڈل قرار دیا۔

دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی انسان نے وہ کچھ حاصل نہیں کیا جو نبیﷺ نے حاصل کیا لہٰذا ان کی زندگی کی باتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نبی ﷺ کو ہر قسم کے کی مشکلات، تکالیف مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اپنا مقصد ترک نہیں کیا اور ان کی زندگی سے سیکھ کر ان عمل پیرا ہونے والے تمام لوگ اپنی زندگی میں کامیاب رہے ۔

انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے اصولوں پر عمل کر کے مدینہ کی ریاست 700 سال تک قائم رہی اور مسلمان عروج پر پہنچے آج ان اصولوں پر مغرب زیادہ عمل پیرا ہے اور خوشحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں خاندانی سیاست جمہوریت کی نفی ہے۔