شاہد خاقان عباسی، دیگر کےخلاف ایل این جی ریفرنس سماعت کیلئے منظور

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

ریفرنس میں سابق وزیر اعظم سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی
ریفرنس میں سابق وزیر اعظم سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے متعلق ریفرنس سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا۔

نیب نے پہلی بار 3 دسمبر کو یہ ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا، تاہم رجسٹرار نے ریفرنس پر اعتراضات لگائے تھے۔

نیب نے رجسٹرار احتساب عدالت کے اعتراضات دور کرتے ہوئے ایل این جی ریفرنس آج دوبارہ دائر کیا۔

احتساب عدالت نے 8 ہزار صفحات پر مشتمل ایل این جی ریفرنس باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

ریفرنس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل ایند غیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: شاہد خاقان کے خلاف ایل این جی ریفرنس دو ہفتے میں دائر کیا جائے گا، نیب

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے 2015 سے ستمبر 2019 تک ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا، جس سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

ایل این جی ریفرنس میں کہا گیا کہ معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

خیال رہے کہ کیس کے دونوں مرکزی ملزمان شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمٰعیل اس کیس کے سلسلے میں 4 ماہ سے زیرحراست ہیں جبکہ عمران الحق نے دو ہفتے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی۔

مذکورہ ریفرنس میں نامزد ملزمان میں سے 2 وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں جبکہ نیب ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں 20 ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس کی سفارش کردی

اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ کچھ عرصہ قبل گرفتار کیے گئے سیکریٹری پیٹرولیم عابد سعید، ایل این جی کیس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جن کے بیان کی روشنی میں شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

شاہد خاقان عباسی پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں بحیثیت وزیر پیٹرولیم قواعد کے خلاف ٹھیکا دینے کا الزام ہے، اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا تاہم 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا تھا۔