بلوچستان: قلعہ سیف اللہ میں مسافر بس اور پک اپ میں تصادم، 15 افراد جاں بحق

ای میل

حادثے کے بعد بس میں آگ لگ گئی—فوٹو: ڈان نیوز
حادثے کے بعد بس میں آگ لگ گئی—فوٹو: ڈان نیوز

صوبہ بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ میں مسلم باغ کے قریب مسافر بس اور پک اپ میں تصادم کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔

اس حوالے سے ریسکیو اہلکار کا کہنا تھا کہ گل محمد نامی ایک شخص اس حادثے سے محفوظ رہا کیونکہ اس نے تصادم سے پہلے ہی مسافر بس سے چھلانگ لگا لی تھی۔

واقعے کی ابتدائی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: 2 ٹریفک حادثوں میں 13 افراد جاں بحق، 35 زخمی

لیویز ذرائع کے مطابق حادثے میں 15 افراد جاں بحق ہوئے اور تصادم کے بعد گاڑیوں میں آگ لگنے سے ڈرائیور و مسافر خاکستر ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بچے و خواتین بھی شامل ہیں اور حادثے کے بعد لاشوں کو شناخت کے لیے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

تاہم ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ لاشیں جھلس جانے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہیں۔

دوسری جانب ایدھی ذرائع نے بتایا کہ پک اپ تیل اور ڈیزل کے ڈبے لے کر جارہی تھی، جس کے باعث تصادم کے بعد آگ لگ گئی۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں قومی شاہراوں کو 'تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتی اور یہی حادثات کی بڑی وجہ ہے'۔

انہوں نے کہا کہ پابندی کے باوجود ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ 'معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور رپورٹ پیش کی جائے گی'، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیوں کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ان 'مشتبہ گاڑیوں' کا نوٹس نہیں لیتا۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ حادثے کی تحقیقات کریں اور 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کریں۔

اس معاملے پر مسلم باغ کے ڈپٹی کمشنر سے متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی گئی تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: مکران کوسٹل ہائی وے پر بس کو حادثہ، 9 افراد جاں بحق

قبل ازیں نومبر کے اواخر میں صوبہ بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسافر بس حادثے کا شکار ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوئے تھے،

اسسٹنٹ کمشنر بیلا جمیل بلوچ نے بتایا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس اورماڑہ سے کراچی جارہی تھی جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 38 افراد سوار تھے۔

اس سے قبل اکتوبر میں بلوچستان کے ضلع حب اور خضدار میں ٹریفک حادثے کے باعث خواتین اور بچوں سمیت مجموعی طور پر 13 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے تھے۔