بھارت میں متنازع بل پر ہنگامے: امریکا، برطانیہ کا اپنے شہریوں کیلئے سفری انتباہ

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2019

ای میل

غیر مسلم تارکین کو شہریت دینے کے بل کے بعد سے بھارت میں مظاہرے زور پکڑ گئے—فوٹو: اے پی
غیر مسلم تارکین کو شہریت دینے کے بل کے بعد سے بھارت میں مظاہرے زور پکڑ گئے—فوٹو: اے پی

بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد آسام سمیت دیگر ریاستوں میں پُرتشدد مظاہروں کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کردیا۔

واضح رہے کہ گزرتے دن کے ساتھ بھارت کی متعدد ریاستوں میں عوام اور انتظامیہ کے مابین جھڑپوں میں شدت آرہی ہے اور اب تک 2 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری، بنگلہ دیشی وزرا کا دورہ بھارت منسوخ

غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت کی لوک سبھا اور راجیا سبھا نے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کر لیا تھا جس کے بعد سے ملک بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے کرفیو نافذ کرکے مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔

مظاہرین کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کے غیر مسلم تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے سے وہ ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے اور ان کی صدیوں پرانی ثقافت متاثر ہوگی۔

دوسری جانب مظاہرین کا مرکز ریاست آسام کے علاقے گوہاٹی میں گزشتہ رات سے کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم گزشتہ ایک ہفتے میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب حکام نے گوہاٹی میں ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

تاہم اس سے قبل ہی بعض احتجاجی گروہوں نے کہا کہ وہ کرفیو میں بھی مظاہرے کریں گے۔

آل آسام اسٹوڈنٹس یونین سے تعلق رکھنے والے سمجل بھٹا چاریہ نے بتایا کہ مذکورہ گروپ 'سڑکوں اور عدالتوں' میں نئے قانون کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔

ادھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور جاپانی ہم منصب شنزو آبے نے گوہاٹی میں ہونے والے اجلاس کو ملتوی کردیا اور امریکا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ نئے قانون کے خلاف دیگر چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوئے اور نئی دہلی میں سیکڑوں طلبہ نے مغربی بنگال کے ایک ریلوے اسٹیشن پر عمارتوں کو نذر آتش کردیا۔

اس کے علاوہ جنوب میں کیرالہ اور کرناٹک کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

مزیدپڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل پر احتجاج جاری، بین الاقوامی سطح پر تنقید

واضح رہے کہ بھارتی کے مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ اس متنازع قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ بل دونوں ایوان سے منظور ہوچکا اور اب قانون کا حصہ بنانے کے لیے اس پر بھارتی صدر کے دستخط درکار تھے جو ایک رسمی کارروائی ہے اور صدر کے دستخط کے ساتھ ہی یہ قانونی شکل اختیار کرلے گا۔

شہریت ترمیمی بل ہے کیا؟

شہریت بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت کی فراہمی ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

مزیدپڑھیں: غیر مسلم تارکین کو شہریت دینے کا بل، بھارت میں مظاہرے زور پکڑ گئے

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔