چیئرمین نیب نے لاہور رنگ روڈ میں مبینہ کرپشن کا نوٹس لے لیا

اپ ڈیٹ 25 دسمبر 2019

ای میل

فیس نہیں کیس دیکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، چیئرمین نیب — فائل فوٹو / اے پی پی
فیس نہیں کیس دیکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، چیئرمین نیب — فائل فوٹو / اے پی پی

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے لاہور رنگ روڈ میں 62 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا نوٹس لے لیا۔

نیب ترجمان سے جاری بیان کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب لاہور کو رنگ روڈ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) پشاور کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں اس کیس کی پہلے سے جاری انکوائری مکمل کریں گے۔

فیس نہیں کیس دیکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، چیئرمین نیب

دوسری جانب اپنے ایک بیان میں چیئرمین نیب نے کہا کہ بیورو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے فیس (چہرہ) نہیں بلکہ کیس دیکھنے اور احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ایک منزل کا تعین کیا ہے جس کا مقصد بدعنوان عناصر، اشتہاری اور مفرور ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا اور ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی ہے۔

مزید پڑھیں: کرپشن کینسر ہے، خاتمے کیلئے بڑی سرجری کی ضرورت ہے، چیئرمین نیب

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب نے گزشتہ 27 ماہ میں بدعنوان عناصر سے قوم کے 153 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے، جبکہ 630 ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ بدعنوانی کے تقریباً 600 ریفرنس احتساب عدالتوں میں جمع کروائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے اس وقت 25 احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ایک ہزار 261 ریفرنس زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباً 943 ارب روپے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر احتساب عدالتوں سے سزا دلوانے کی شرح 70 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔