پولیو مہم 'درست سمت پر گامزن' ہے، وزارت صحت کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2020

ای میل

حالیہ مہم میں  پولیو ویکسین پلانے سے انکار میں 7 گنا کمی آئی— فائل فوٹو: اے ایف پی
حالیہ مہم میں پولیو ویکسین پلانے سے انکار میں 7 گنا کمی آئی— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی 'درست سمت پر گامزن' ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘اپریل میں 25 لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے لیکن حالیہ مہم میں 5 برس سے کم عمر صرف 2 لاکھ بچوں کو ویکسین نہیں پلائی گئی‘۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں پولیو کے کیسز کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی

انہوں نے کہا کہ جن بچوں کو ویکسین نہیں پلائی گئی وہ بھی والدین کی جانب سے انکار کے کیسز تھے اور پروگرام کی ہدایات کے مطابق پولیو ٹیمز نے والدین کو مجبور نہیں کیا۔

ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہا کہ ’پولیو مہمات کے دوران 5 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین پلائی جاتی ہے تاہم یہ ہدایت دی گئی تھی کہ 6 سال کے وہ بچے جو بظاہر 5 برس کے معلوم ہوتے ہیں انہیں بھی پولیو ویکسین پلائی جانی چاہیے تاکہ بچوں میں قوت مدافعت کی سطح کو بڑھایا جاسکے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ اور خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 4 کیسز سامنے آگئے

ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے مقابلے میں حالیہ مہم میں پولیو ویکسین پلانے سے انکار میں 7 گنا کمی آئی، اپریل میں اس حوالے سے انکار کے 14 لاکھ کیسز تھے اور دسمبر میں ہونے والی مہم میں یہ تعداد کم ہو کر 2 لاکھ تک پہنچ گئی۔

ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہا کہ ’پولیو مہمات کے دوران ہم نے اس بات پر زور دیا کہ تعداد کے بجائے معیار کو ترجیح دی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہم نے معیاری مہمات پر توجہ مرکوز کی اور ویکسینیشن کی کوریج میں بہتری دیکھی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے بتایا کہ یہ سال کی پہلی انسداد پولیو مہم تھی جس میں دور دراز سرحدی علاقوں سمیت پاکستان کے تمام حصوں میں ویکسین پلائی گئی۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر ڈاکٹر رانا صفدر کے دعوے کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: ملک میں پولیو وائرس کی معدوم قسم کے 7 کیسز کی تشخیص

وزارت قومی صحت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ 16 سے 20 دسمبر کے دوران جاری رہنے والی ملک گیر انسداد پولیو مہم پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جانب پہلا قدم تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اپریل 2019 کے بعد یہ پہلی ملک گیر مہم تھی کیونکہ اپریل میں پشاور میں پروپیگنڈے پر مبنی واقعہ پیش آنے کی وجہ سے پروگرام میں رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں‘۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ’انسداد پولیو پروگرام درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت کے پاس مک میں پولیو وائرس کی منتقلی کو شکست دینے کا مضبوط حل ہے‘۔