پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2020

ای میل

17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی
17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزا پر سینیٹ (ایوان بالا) میں حکومت اور اپوزیشن کے شدید درمیان بحث ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما مشاہداللہ خان نے بحث میں حصہ لییتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، پشاور ہائی کورٹ کے جج وقار احمد سیٹھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج کے خلاف الزامات کی صداقت پتہ لگانے کے لیے کوئی فورم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے کسی نے قبول کیا یا نہیں لیکن جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف دیا گیا فیصلہ سنہری حرف میں لکھنے کے قابل تھا۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

مشاہداللہ خان نے کہا کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز زبان استعمال کی، ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حکمراں جماعت کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ اس ملک کوکیسے چلایا جاسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت پرویز مشرف کے خلاف کیس کرنے کی ہمت تھی۔

دوران اجلاس مشاہداللہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں کہا تھا کہ پرویز مشرف نے غداری کی لیکن اب وہ اور ان کے وزیر قانون کچھ اور کہہ رہے ہیں۔

اسی دوران متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کو معیشت کی خرابی، سیاسی عدم استحکام اور اندرونی و بیرونی مسائل سمیت ملک کو درپیش تمام مسائل کا غلط ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کو شرمناک انداز میں شرمناک الفاظ میں لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے آئین اور عدالت کے متعلقہ فیصلوں کو پڑھے بغیر فیصلہ دیا‘۔

سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ’جو لوگ اس سزا پر خوش ہیں میں انہیں باور کروانا چاہتا ہوں کہ یہ ان کی خواہش ہی رہے گی کیونکہ پرویز مشرف کو کوئی سزا نہیں دے سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس سیاسی نوعیت کا ہے اور وہ کسی طر یقے سے غداری کے قصور وار نہیں۔

سینیٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ اگر یہ کیس صحیح ہوتا تو جنہوں نے پرویز مشرف کے اقدامات کی توثیق کی انہیں بھی عدالت کے کٹہرے میں لایا جاتا۔

انہوں نے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کا حوالہ دیا اور کہا کہ سیاست دانوں نے ماضی میں پرویز مشرف سے سمجھوتے کیے تھے۔

علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے سینیٹر نے کہا کہ سیاست دانوں نے پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی بھی حمایت کی تھی، جس نے 1999 کی بغاوت سمیت ان کے کئی فیصلوں کو جواز بنادیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی جنرلز کو ان غلطیوں کا مورد الزام بھی ٹھہرایا گیا جو اصل میں سویلین حکمرانی کے دوران کی گئی تھیں۔

سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

جس کے بعد 19 دسمبر کو اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا تھا اور اس میں ان کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے معاونت کی تھی۔

تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں 'ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے' کا ذکر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کب کیا ہوا؟

علاوہ ازیں 17 دسمبر کو دیے گئے مختصر عدالتی فیصلے پر سابق صدر کا ردعمل سامنے آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف کچھ لوگوں کی ذاتی عداوت کی وجہ سے کیس بنایا اور سنا گیا جس میں فرد واحد کو ٹارگٹ کیا گیا۔

عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پرویز مشرف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ 'خصوصی عدالت نے میرے خلاف آرٹیکل 6 کا جو فیصلہ سنایا وہ میں نے ٹی وی پر پہلی بار سنا، یہ ایسا فیصلہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ مدعا علیہ اور نہ اس کے وکیل کو اپنے دفاع میں بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔'

واضح رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر، 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 1973 کے آئین کو معطل کردیا تھا جس کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدالت کے 61 ججز فارغ ہوگئے تھے۔