بھارت: متنازع شہریت قانون کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

اپ ڈیٹ 04 جنوری 2020

ای میل

بھارت جنوبی شہر بنگلور میں تقریباً 30 ہزار افراد شریک ہوئے—تصویر: اے ایف پی
بھارت جنوبی شہر بنگلور میں تقریباً 30 ہزار افراد شریک ہوئے—تصویر: اے ایف پی
سلی گوری میں 20 ہزار سے زائد اور چنائی میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا—تصویر: اے ایف پی
سلی گوری میں 20 ہزار سے زائد اور چنائی میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا—تصویر: اے ایف پی
دارلحکومت نئی دہلی، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں—تصویر: اے پی
دارلحکومت نئی دہلی، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں—تصویر: اے پی

بنگلور: بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کے منظور کردہ مسلمان مخالف شہریت قانون کے خلاف جمعہ کے روز روز ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی شہر بنگلور میں تقریباً 30 ہزار، سلی گوری میں 20 ہزار سے زائد اور چنائی میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ نئی دہلی، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔

علاوہ ازیں 'ایل جی بی ٹی کیو' کمیونٹی کے ایک ہزار سے زائد افراد، انسانی حقوق تنظیموں اور ان کے حامیوں نے بھارتی دارالحکومت میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی

اپنے آپ کو متعصب افراد کا مخالف کہنے والے شہریوں نے حکومت کی جانب سے خطرات میں گھرے محروم طبقات کے لوگوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کی پالیسی پر حکومت کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی۔

جمعے کے روز بنگلور میں ہونے احتجاج میں ایک تاجر نذیر احمد کا کہنا تھا کہ ’ہندو، مسلم اور سکھ ہر مقام پر اکٹھا احتجاج کر رہے ہیں اور ہم اسے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک قانون منسوخ نہ ہو جائے‘۔

نئی دہلی میں مظاہرین نے ’ہانگ کانگ‘ کی طرح جدو جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جہاں تقریباً 7 ماہ سے جمہوریت کی حمایت میں مہم جاری ہے۔

اس بارے میں ایک 19 سالہ نوجوان کا کہنا تھا کہ ’جس حد تک سفاکی جمہوریت میں ممکن ہے اس سے پولیس احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔

مزید پڑھیں: بھارت: مسلم مخالف 'شہریت' قانون کے خلاف احتجاج کئی ریاستوں تک پھیل گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے طریقے سے اس وقت تک اس تحریک کو زندہ رکھیں گے جب تک یہ قانون واپس نہیں لے لیا جاتا‘۔

دوسری جانب وزیر داخلہ امیت شاہ اس بات پر مصر ہیں کہ یہ قانون امتیازی نہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ’غلط معلومات‘ کو دور کرنے کے لیے مہم بھی شروع کی اور دعویٰ کیا کہ یہ غلط معلومات اپوزیشن جماعتیں پھیلا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنان گھر گھر جا کر نئے قانون کی وضاحت کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں بھارتی حکومت نے ایک متنازع قانون منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے وہ افراد جو مسلمان نہیں ان کو باآسانی شہریت دی جاسکے گی، مذکورہ قانون کے منظور ہونے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت:متنازع شہریت قانون پر احتجاج کے دوران مردم شماری کیلئے فنڈز کی منظوری

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون شہریوں کو قانونی شہری کے طور پر رجسٹر کرنے کا پیش خیمہ ہے جس سے بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو غیر ریاستی ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ بہت سے غریب شہریوں کے پاس اپنی قومیت ثابت کرنے کی دستاویزات ہی نہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے احتجاج میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی اہم سماجی رہنماؤں، ٹیلی ویژن کے اداکاروں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ’اقوام عالم آخر کب تک چپ سادھے مودی سرکار کی بربریت کا نظارہ کرتی رہیں گی؟'

مزید پڑھیں: بھارت میں پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے سبب سیاحت بری طرح متاثر

انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی اخبار دی ہندو کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس کا عنوان تھا ’ریاست کی پھیلائی گئی نفرت میں خطرے کی نئی گری ہوئی سطح‘، جس میں یارش مندر نے بتایا تھا کہ اتر پردیش میں پولیس کے مظالم اور اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔


یہ خبر 4 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔