ایرانی ہیکرز امریکی اداروں پر سائبرحملے کرسکتے ہیں، ماہرین

اپ ڈیٹ 05 جنوری 2020

ای میل

موجودہ صورتحال ایرانی فورس کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے—فائل فوٹو: اےایف پی
موجودہ صورتحال ایرانی فورس کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے—فائل فوٹو: اےایف پی

سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تہران بدلے کی آگ میں سائبر حملے کرواسکتا ہے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ایرانی ہیکرز ممکنہ طور پر تیل، گیس پلانٹ اور ٹرانزٹ سسٹم کو اپنا ہدف بناسکتے ہیں جس کے باعث امریکی سائبر سیکیورٹی نے کاروباری اور سرکاری ایجنسیوں کو اضافی چوکس رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزیدپڑھیں: سابق اسرائیلی وزیر کا ایران کیلئے جاسوسی کا اعتراف

سائبر سیکیوریٹی فرم فائر آئی کے ڈائریکٹر جان ہولکیوسٹ نے کہا کہ ایرانی ہیکرز غیر معمولی تباہی پھیلاسکتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین نے دعویٰ کیا کہ ایران حالیہ برس میں امریکی صنعتی نظام کے بارے میں بہت سی تحقیقات کر رہا ہے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایرانی ہیکروں نے اپنے تباہ کن حملوں کو مشرق وسطی تک ہی محدود رکھا۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ایرانی ہیکرز نے امریکی انفرااسٹرکچر میں تباہ کن 'میلویئر(وائرس)' داخل کردیے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ میلویئر کسی بھی وقت متحرک ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے جان ہولکیوسٹ نے کہا کہ 'یہ یقینی طور پر ممکن ہے لیکن ہم نے حقیقت میں اسے ابھی تک نہیں دیکھا'۔

ادھر صنعتی کنٹرول سسٹم کی حفاظت میں مہارت رکھنے والے ڈریگوس انکارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو رابرٹ ایم لی نے بتایا کہ ایرانی ہیکرز یوٹیلیٹیز، فیکٹریوں اور تیل و گیس کی تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں بہت جارحانہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے ایگزیکٹو گرفتار، چین اور امریکا کے تعلقات میں پھر کشیدگی

انہوں نے مزید کہا کہ 'اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کامیاب ہوگئے'۔

تاہم رابرٹ ایم لی نے مزید کہا کہ 2013 میں ایرانی ہیکروں نے ایک امریکی ڈیم کے کنٹرول سسٹم کو توڑ دیا تھا، 'لیکن شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ جس پر انہوں نے سائبر حملہ کیا وہ نیو یارک شہر سے 20 میل شمال میں سیلاب کنٹرول کا ایک چھوٹا سا نظام تھا'۔

سائبر ماہرین کے مطابق ایرانی ہیکرز اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں لیکن وہ چین یا روس جیسی ہیکروں کی طرح نہیں ہیں۔

ماہرین نے اس امر پر اتفاق کا اظہار کیا کہ روس کے ریاستی ہیکرز اہم انفرااسٹرکچر کو سبوتاژ کرنے میں بازی لے گئے جس کی مثال یوکرائن کے بجلی گرڈ اور انتخابات پر حملوں کی صورت سے ملتی ہے۔

علاوہ ازیں رابرٹ ایم لی نے کہا کہ 'سب سے خراب صورت حال میونسپلٹی یا کوآپریٹو نوعیت کے سائبر حملوں سے پیدا ہوگی جہاں شہر یا کچھ پڑوسی شہروں میں بجلی منقطع ہوجائے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: اسمٰعیل قاآنی ایرانی قدس فورس کے نئے سربراہ مقرر

اس بارے میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمہ سائبر سیکیورٹی کے اعلی عہدیدار کرسٹوفر کربس نے کمپنیوں اور سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ قاسم سلیمانی کی موت کے بعد ایرانی ہیکرز کے ماضی کے کارناموں اور طریقوں کا جائزہ لے کر اپنے نظام پر پوری توجہ دیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 13 فروری کو امریکا نے اپنی ہی فضائیہ کی سابق انٹیلی جنس افسر کو ایران کے لیے ’جاسوسی‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے الزام لگایا تھا کہ 39 سالہ مونیکا ویٹ نے امریکی ملٹری پر سائبر حملوں کے لیے پاسداران انقلاب کی مدد کی۔

امریکی حکام نے الزام لگایا تھا کہ مونیکا ویٹ نے اپنے ملک کے خلاف ’نظریات‘ کی بنیاد پر رخ بدلا اور امریکی حساس آپریشن اور امریکی جاسوسوں کی تفصیلات تہران کو فراہم کیں۔

علاوہ ازیں مارچ 2019 میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی ہیکرز سے منسلک سائبر حملوں کا پتہ لگایا گیا جنہوں نے گزشتہ 2 برس کے دوران 200 سے زائد کمپنیوں کے ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی ہیکروں نے ہیکنگ کے دوران کمپیوٹرز سے کارپوریٹ رازوں کو چوری اور ڈیٹا کو صاف کردیا تھا۔