متنازع شہریت قانون، بھارتی حکومت لوگوں کو ٹوئٹر پر دھوکا دینے لگی

05 جنوری 2020

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شہریت کے متنازع قانون پر لوگوں کی حمایت کے لیے ٹوئٹر پردھوکے بازی پر مبنی مہم چلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں بھارتی حکومت نے ایک متنازع قانون منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے وہ افراد جو مسلمان نہیں ان کو باآسانی شہریت دی جاسکے گی، مذکورہ قانون کے منظور ہونے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون شہریوں کو قانونی شہری کے طور پر رجسٹر کرنے کا پیش خیمہ ہے جس سے بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو غیر ریاستی ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ بہت سے غریب شہریوں کے پاس اپنی قومیت ثابت کرنے کی دستاویزات ہی نہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے احتجاج میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی اہم سماجی رہنماؤں، ٹیلی ویژن کے اداکاروں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

4 جنوری 2020 کو بھارتی حکومت نے اس معاملے پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کا ایک نیا ذریعہ تلاش کرلیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: مسلم مخالف 'شہریت' قانون کے خلاف احتجاج کئی ریاستوں تک پھیل گیا

بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کو ایک فون نمبر ٹوئٹ کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس نمبر پر کال کرکے 'سی اے اے قانون پر حمایت کا اظہار کریں'۔

اب بھارت میں ہزاروں افراد، جن میں سے بیشتر کا تعلق بی جے پی سے ہے، اس فون نمبر کو ٹوئٹر پر پھیلاتے ہوئے وعدے کررہے ہیں کہ جو کوئی بھی اس نمبر پر کال کرے گا اسے ملازمت کے مواقع، مفت موبائل ڈیٹا، نیٹ فلیکس کا پاس ورڈ بلکہ 'تنہا خواتین' کا ساتھ فراہم کیا جائے گا۔

یہاں تک کہ نیٹ فلیکس انڈیا کو بھی اس پر ردعمل ٹوئٹ کے ذریعے ظاہر کرنا پڑا۔

ہفنگٹن پوسٹ انڈیا کے مطابق یہ اقدام بی جے پی کی جانب سے متنازع قانون پر حمایت جیتنے کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والی حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے ادارے بوم لائیو کے مطابق یہ نمبر پھیلانے والے بیشتر افراد کا تعلق حکمران جماعت سے تھا۔

یہ پہلی بار نہیں جب بی جے پی کی جانب سے ٹوئٹر کو اپنے خیال کو پھیلانے کے لیے جارحانہ انداز سے استعمال کیا گیا۔

2017 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت میں متعدد سیاسی ہیش ٹیگ بھارت کے ٹاپ 10 ٹوئٹر ٹرینڈز پر ابھر کر سامنے آئے تھے جو کہ منظم مہمات کا حصہ تھے۔

اس حوالے سے ابھی ٹوئٹر کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔