2019 میں دہشت گردی کے واقعات میں 30 فیصد کمی آئی، رپورٹ

اپ ڈیٹ 08 جنوری 2020

ای میل

اسلام آباد: تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سال 2019 میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں نمایاں رہے اور انہوں نے بالترتیب 82 اور 27 دہشت گردانہ حملے کیے جن میں سے چند نہایت اہم نوعیت کے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پپز) کی سالانہ رپورٹ برائے سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ سال کے دوران داعش کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 2019 میں 2018 کے مقابلے میں 13 فیصد کم 229 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 4 خود کش حملے بھی شامل ہیں۔

ان حملوں میں 357 افراد جاں بحق ہوئے جو 2018 میں ان واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد سے 40 فیصد کم ہے جبکہ 729 افراد زخمی بھی ہوئے۔

مزید پڑھیں: سال 2019: پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی، رپورٹ

رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور حزب الاحرار کی جانب سے 158 دہشت گردانہ حملے کیے گئے جن میں 239 افراد جاں بحق ہوئے۔

اس کے علاوہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل اے) کی جانب سے 57 حملے کیے گئے جن میں 80 افراد جاں بحق ہوئے۔

اس کے علاوہ سال 2019 میں رپورٹ ہونے والے 14 واقعات کا تعلق فرقہ وارانہ دہشت گردی سے تھا جس میں 38 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 164 شہری، 163 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 30 دہشت گرد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سب سے زیادہ 52 فیصد یعنی 118 حملوں میں سیکیورٹی اہلکار و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

مجموعی طور پر 2019 میں ہونے والے 91 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے، کے پی کے میں 125 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 145 جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 249 زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیں شمالی وزیرستان عسکریت پسندانہ کارروائی کہ اہم جگہ رہا جہاں سال بھر میں سب سے زیادہ 50 واقعات رونما ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: مذہبی، نظریاتی، سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پرتشدد کارروائی دہشت گردی ہے، سپریم کورٹ

سال 2019 میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان رہا جہاں 84 حملوں میں 171 افراد جاں بحق ہوئے اور 436 زخمی ہوئے۔

سندھ میں 14 دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور اسلام آباد میں ایک واقعہ رونما ہوا۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2019 میں سیکیورٹی آپریشنز سمیت دہشت گردوں سے جھڑپوں کے دوران 113 دہشت گرد ہلاک کیے جبکہ 2018 میں یہ تعداد 105 تھی۔

فورسز/ایجنسیوں نے ملک بھر میں 99 سرچ و کامبنگ آپریشنز کے دوران 231 مشتبہ دہشت گردوں اور مسلح تنظیموں کے اراکین کو گرفتار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'سرحد پر حملوں میں پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2018 کے مقابلے میں 2 فیصد کمی آئی، پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی کُل تعداد 128 رہی جن میں افغانستان سے 4، بھارت سے 123 اور ایران سے ایک حملہ سامنے آیا'۔

ان حملوں میں 91 پاکستانی جاں بق ہوئے جن میں 61 عام شہری اور 29 فوجی اور ایک رینجرز کا جوان شہید ہوا۔