عالمی رہنماؤں کا ایران پر یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا الزام

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2020

ای میل

یوکرینی طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے  تھے— فائل فوٹو: اے ایف
یوکرینی طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف

کینیڈا، امریکا اور برطانیہ کے حکام نے ایران پر یوکرین کا طیارہ تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے اور ایران کے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں کے باعث ایران نے غلطی سے میزائل سے یوکرینی طیارہ مار گرایا ہو۔

خیال رہے کہ 8 جنوری کو ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے کچھ گھنٹے بعد یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: دوران پرواز آگ لگنے کے بعد یوکرینی طیارے نے واپس آنے کی کوشش کی، ایران

اس حوالے سے امریکا کے 4 عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ کہیں مسافر طیارے کو غلطی سے خطرہ نہ سمجھ لیا گیا ہو۔

اس حادثے میں کینیڈا کے 63 شہری ہلاک ہوئے تھے جس پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اوٹاوا میں کہا کہ ’ ہمارے پاس اتحادیوں سمیت ذاتی انٹیلی جنس ذرائع ہیں (جبکہ) شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے طیارے کو مار گرایا تھا‘۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے بھی ایسے ہی بیانات دیے۔

اسکاٹ موریسن نے یہ بھی کہا کہ یہ بظاہر غلطی معلوم ہوتی ہے، ہمیں پیش کی گئی انٹیلی جنس معلومات سے نہیں لگتا کہ ایسا دانستہ طور پر کیا گیا۔

ادھر وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ یوکرین کا طیارہ تباہ ہونے کا ذمہ دار ایران ہے جبکہ انہوں نے طیارے میں تکنیکی مسئلے کے ایرانی دعوے کو بھی مسترد کردیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ دوسری جانب سے کوئی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیویارک ٹائمز نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں ایران میں یوکرینی طیارے پر میزائل فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے اس ویڈیو کی تصدیق کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

علاوہ ازیں ایران نے حادثے میں تباہ ہونے والے یوکرین کے مسافر طیارے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ دوران سفر مسافر طیارے میں آگ بھڑک جانے کے بعد مدد کے لیے ایک ریڈیو کال بھی نہیں کی گئی جبکہ طیارے نے ایئرپورٹ کے لیے واپس جانے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

ایرانی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کے کچھ ہی منٹ کے بعد یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کے بوئنگ 737 میں اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور وہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ 8 جنوری کو یوکرینی مسافر طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام ایک سو 76 افراد ہلاک ہوگئے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔