امریکا نے ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

اسٹیون میوچن اور امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو میڈیا سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
اسٹیون میوچن اور امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو میڈیا سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا 8 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی کے ساتھ ایران میں کان کنی اور دھاتوں کی پیداوار کی ایک درجن سے زائد کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان

انہوں نے کہا کہ 'ان اقدامات کے نتیجے میں ہم ایرانی حکومت کی اربوں ڈالر کی امداد کو ختم کر دیں گے۔'

غلام رضا سلیمانی اور علی شمخانی — فوٹو: اے ایف پی
غلام رضا سلیمانی اور علی شمخانی — فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن کی جانب سے ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف محمد رضا اشتیانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار پر پابندی عائد کی گئیں۔

علاوہ ازیں امریکا نے کان کنی اور دھاتوں کی پیداوار کی 17 کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کردی جن سے ایران کو اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

محکمہ خزانہ کے سیکریٹری نے کہا کہ 'پابندیوں میں تین اداروں کا نیٹ ورک بھی شامل ہے جن کی شاخیں چین اور سیشلز میں ہیں جہاں 'ایرانی دھاتوں کی مصنوعات کی خریداری، فروخت اور منتقلی ہوتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایران،امریکا جنگ کا خطرہ ٹلنے پر اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار 166 پوائنٹس کا اضافہ

اسٹیون میوچن نے کہا کہ ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانے کے ردعمل میں عہدیداروں اور کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والے اقدامات 'اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک اس کی حکومت عالمی دہشت گردی کی مالی اعانت بند نہ کرے اور جوہری ہتھیاروں کے تلف کرنے کے عزم کا اظہار نہ کرے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی کی حملے میں ہلاکت کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

پیر کو ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے جواب میں واشنگٹن نے اگر مزید فوجی کارروائی کی تو اسرائیل کے شہروں حائفہ اور تل ابیب کو 'راکھ کے ڈھیر' میں بدل دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر کا ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے ایران میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 5 روز تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بند کرنے پر ایران کے وزیر اطلاعات محمد جواد آذری جہرمی پر پابندیاں عائد کردی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان نئے تنازع کے جنم لینے کے بعد خطے میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں بدھ کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے۔

علاوہ ازیں امریکا کے محکمہ خزانہ کے مطابق ایرانی وزیر محمد جواد آذری جہرمی نے عہدے پر رہتے ہوئے ایران کی 'جارحانہ انٹرنیٹ سینسرشپ کی پالیسی کو بڑھادیا ہے'۔

گزشتہ برس 21 ستمبر امریکا نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذمہ داری براہ راست ایران پر عائد کرتے ہوئے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور مالیاتی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران: تیل کی قیمت بڑھانے پر احتجاج کے دوران پولیس اہلکار، شہری ہلاک

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔