خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 6 کیسز کی تصدیق

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے—انسداد پولیو ویب سائٹ
2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے—انسداد پولیو ویب سائٹ

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیو کے مزید 6 کیسز کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 140 ہوگئی۔

پولیو کے سب سے زیادہ کیسز صوبہ خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے جہاں سال 2019 میں پولیو کے مجموعی طور پر 97 کیسز سامنے آئے۔

پولیو کے نئے کیسز خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع خیبر، مہمند، باجوڑ، پشاور، تورغر اور لکی مروت میں سامنے آئے۔

ضلع خیبر میں 18 ماہ کی بچی، مہمند میں 10 ماہ کے بچے، باجوڑ میں 7 ماہ کی بچی، پشاور میں 10 ماہ کی بچی، تورغر میں 12 ماہ کا بچہ اور لکی مروت میں 18 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

پشاور اور باجوڑ میں متاثرہ بچوں کو پولیو کی ویکسین دی گئی تھی تاہم دیگر اضلاع کے متاثرہ بچوں کو ویکسین نہیں دی گئی۔

پولیو سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ نئے کیسز 'وائلڈ پولیو' نہیں ہیں بلکہ 'سی وی ڈی پی وی ٹو' کے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سی وی ڈی پی وی ٹو کے مجموعی طور پر ب تک 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پاکستان سمیت 18 ممالک کو سی وی ڈی پی وی ٹو وائرس کا سامنا ہے جن میں چین بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ اپریل 2016 سے مارکیٹ میں سی وی ڈی پی وی ٹو وائرس کے لیے ویکسین دستیاب نہیں ہے، تاہم نئے کیسز کنٹرول کرنے کے لیے حکمت عملی بنا کر گلوربل ایڈوائزری کے ساتھ شیئر کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پولیو کا ایک کیس صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کی تحصیل میر پور ساکرو کی یونین کونسل گجو سے رپورٹ ہوا تھا۔

قومی ادارہ برائے صحت کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ 34 ماہ کا بچہ بائیں ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہوگیا۔

واضح رہے کہ 4 جنوری کو 5 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اس سے قبل 2 جنوری کو مزید 6 پولیو کیسز سامنے آئے تھے۔

صحت حکام کے مطابق ملک میں سال 2020 کی پہلی 3 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز 13 جنوری سے کیا جائے گا۔

قومی ادارہ صحت کے عہدیدار کے مطابق ’سال 2020 کا آغاز ہونے کے باوجود مزید ایک ماہ تک سامنے آنے والے کیسز 2019 کی فہرست میں شامل کیے جاسکتے ہیں کیونکہ کسی سال میں پولیو کیس کا اندراج وائرس کی تصدیق ہونے کی تاریخ کے بجائے ٹیسٹ کے لیے نمونے لینے کے تاریخ سے ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے متحرک ہونے کے لیے کم از کم 3 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا نمونے حاصل کرنے کے 3 ہفتوں بعد پولیو کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’یہ عین ممکن ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں تک ہم 2019 کے مزید پولیو کیسز کی تصدیق کریں‘۔

قبل ازیں 30 دسمبر کو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی 'درست سمت پر گامزن' ہے۔

انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔