بی آئی ایس پی سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین کے مستفید ہونے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 26 دسمبر 2019

ای میل

ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے  پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی  تعداد سال 2016 کے ڈیٹا کے مطابق 54 لاکھ تھی—فائل فوٹو: بی آئی ایس پی ویب سائٹ
ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد سال 2016 کے ڈیٹا کے مطابق 54 لاکھ تھی—فائل فوٹو: بی آئی ایس پی ویب سائٹ

اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے اعداد و شمار میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس پروگرام سے مستفید ہونے والے جن 8 لاکھ افراد کو خارج کیا گیا ان میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد ایسے تھے جو خود یا ان کے شریک حیات سرکاری ملازم تھے۔

خیال رہے کہ منگل یعنی 24 دسمبر کو وفاقی کابینہ نے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے 8 لاکھ 20 ہزار ایک سو65 افراد کا نام ڈیٹا سے خارج کرنے کی منظوری دی تھی۔

بی آئی ایس پی کے ڈیٹا بیس میں یہ تبدیلی کابینہ کے گزشتہ اجلاسوں میں کچھ اراکین کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار کرنے پر کی گئی تھی کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے حمایتی اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے افراد نظر انداز ہورہے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی 2008 میں متعارف کروائے گئے ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد سال 2016 کے ڈیٹا کے مطابق 54 لاکھ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار افراد کا نام نکالنے کا فیصلہ

اس حوالے سے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود اور غربت مٹاؤ پروگرام ثانیہ نشتر نے کابینہ کو آگاہ کیا تھا کہ کچھ شکایات کی روشنی میں بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ سروے پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی معاونت سے نظر ثانی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ نظرثانی کے دوران کچھ پہلوؤں کی چھان بین کی گئی مثلاً یہ دیکھا گیا کہ پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے پاس موٹر سائیکل یا کار موجود ہے یا کیا ان کا شریک حیات سرکاری ملازم ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو بتایا کہ وہ افراد جن کے پاس 12 ایکڑ سے زائد زمین موجود ہے وہ 'مستحق' افراد کی کیٹیگری میں نہیں آتے اور 8 لاکھ 20 ہزار ایک سو 65 افراد کے اخراج کے بعد حقیقی مستحق افراد کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

بی آئی ایس پی سے خارج کیے گئے کُل 8 لاکھ 20 ہزار ایک سو 65 افراد میں سے 14 ہزار 730 سرکاری ملازمین یا محکمہ ریلوے، ڈاک کے ملازمین تھے جبکہ انکم سپورٹ پروگرام سرکاری ملازمین کے لیے نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: 'مستحق افراد کے دوبارہ سروے کا فیصلہ'

مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 27 ہزار 826 افراد وہ ہیں جن کے شریک حیات سرکاری یا مذکورہ بالا محکموں کے ملازم ہیں۔

اس کے علاوہ ایک لاکھ 53 ہزار 302 افراد نے ایک مرتبہ بیرونِ ملک سفر کیا جبکہ ایک لاکھ 95 ہزار 364 افراد کے شریک حیات ایک مرتبہ بیرونِ ملک سفر پر گئے۔

بی آئی ایس پی کے اعداد و شمار میں سے 692 افراد کو اس لیے خارج کیا گیا کہ ان کے پاس ایک یا زائد گاڑیاں موجود تھیں جبکہ 43 ہزار 7 سو 46 کو اس لیے نکالا گیا کہ ان کے شریک حیات کے پاس ایک یا زائد گاڑیاں تھیں۔

ایک شخص جو ماہانہ ایک ہزار روپے ٹیلی فون کا بل ادا کرتا ہو وہ اس پروگرام سے ماہانہ وظیفہ پانے کا حقدار نہیں لہٰذا اس مد میں 24 ہزار 5 سو 46 افراد کو خارج کیا گیا۔

اسی طرح ایک لاکھ 55 ہزار 7 سو 67 افراد کو اس وجہ سے خارج کیا گیا کہ ان کے شریک حیات نے ایک ہزار روپے یا زائد کا ٹیلی فون (موبائل، پی ٹی سی ایل) بل ادا کیا۔

مزید برآں ایگزیکٹو مراکز سے پاسپورٹ کے ذریعے پاسپورٹ کے لیے اپلائی کرنے پر 6 سو 66 افراد کو خارج کیا گیا جبکہ 5 سو 80 کو ان کے شریک حیات کی جانب سے ایسا کرنے پر نکالا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کہتی ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں کرنے دیں گے

علاوہ ازیں 36 ہزار 9 سو 70 افراد کو بی آئی ایس پی فہرست سے اس لیے خارج کیا گیا کہ ان کے اہلِ خانہ کے3 یا 3 سے زائد افراد نے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے لیے فیس ادا کی۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری نے 'غریب خواتین کو ماہانہ وظیفے سے محروم' کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'تقریباً 10 لاکھ افراد کو ایک مضحکہ خیز معیار پر پورا اترنے کے باعث خواتین کے واحد سوشل سیفٹی نیٹ ورک سے نکال دیا گیا'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک خاتون کی وجہ سے ایک خاتون کو ملنے والی خود مختاری کو چھین لینا اور ماہانہ وظیفے سے انہیں شوہر کے ٹیلی فون بل کی وجہ سے محروم کرنا شرمناک ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 26 دسمبر 2019 کو شائع ہوئی۔