یوکرینی مسافر طیارے کا معاملہ: ایرانی میزائل حملے کی ویڈیو بنانے والا گرفتار

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

ایران نے ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد طیارہ گرانے کی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا — فائل فوٹو: اے پی
ایران نے ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد طیارہ گرانے کی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا — فائل فوٹو: اے پی

ایران کے میزائل سے یوکرین کا مسافر طیارہ تباہ ہونے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے شخص کو پاسداران انقلاب نے گرفتار کر لیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ مانا جا رہا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص کو نیشنل سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

8 جنوری کو تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑانے بھرنے والے یوکرین کا مسافر طیارہ پی ایس 752 گر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے طیارے میں سوار تمام 176مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے طیارہ حادثے کے چند ذمے داران کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور منگل کو ایران کے صدر حسن روحانی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیں: یوکرینی مسافر طیارے کو نشانہ بنانے کی نئی ویڈیو سامنے آگئی

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بدھ کو ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاسداران انقلاب نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے ایران کے میزائل سے یوکرین کا مسافر طیارہ تباہ ہونے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔

البتہ ابتدائی طور پر ویڈیو فوٹیج پوسٹ کرنے والے ایرانی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ذرائع محفوظ ہیں اور ایرانی حکام نے ایک غلط شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

یاد رہے کہ منگل کو ایران کے عدالتی ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے بتایا تھا کہ طیارہ حادثے کے ذمے دار متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ غیرقانونی اجتماعات میں حصہ لینے پر بھی 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ادھر امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 20 سیکنڈ کے فرق سے طیارے پر دو میزائل فائر کیے گئے۔

اخبار میں کہا گیا کہ پہلا میزائل لگنے سے طیارے کا مواصلاتی نظام خراب ہو گیا جس کے بعد دوسرے میزائل سے وہ مکمل تباہ ہو گیا۔

مزید پڑھیں: مسافر طیارہ مار گرانے کا واقعہ: ایران نے ذمے داران کو گرفتار کرلیا

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکا کے ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ اور انتہائی اہم کمانڈر قاسم سلیمانی مارے گئے تھے ان کے ساتھ عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا اور 8 جنوری کو ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ان میزائل حملوں کے کچھ دیر بعد ہی اسی روز تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: امریکی فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ ہلاک

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

عالمی برادری خصوصاً یوکرین، امریکا اور کینیڈا نے طیارے کی تباہی کا الزام ایران پر عائد کیا تھا لیکن ایران کی جانب سے ان الزامات کی مستقل تردید کی گئی اور یوکرین اور بوئنگ کمپنی کو تحقیقات میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

مزید پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

البتہ بعد میں ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد ایران نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد سے ملک بھر میں حکومت مخالفت مظاہرے جاری ہیں جس میں ذمے داران کو قرار واقعی سزا دینے کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔