300 سے زائد اراکین اسمبلی و سینیٹرز اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے میں ناکام

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2020

ای میل

15 دن کی رعایتی مدت کا مطلب یہ ہے کہ 16 جنوری سے قبل ان کی رکنیت معطل نہیں کی جائے گی —فائل فوٹو: اےا یف پی
15 دن کی رعایتی مدت کا مطلب یہ ہے کہ 16 جنوری سے قبل ان کی رکنیت معطل نہیں کی جائے گی —فائل فوٹو: اےا یف پی

اسلام آباد: قانون سازوں کی جانب سے حتمی تاریخ تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی سالانہ تفصیلات نہ جمع کرانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) 300 سے زائد اراکین اسمبلی اور سینیٹ کی رکنیت معطل کرنے کو تیار ہے۔

قانون کے تحت تمام قانون ساز اپنی، اپنی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات ہر سال الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کے پابند ہیں۔

الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم سے قبل اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر تھی اور مذکورہ تفصیلات جمع نہ کرانے والوں کی رکنیت الیکشن کمیشن 15 اکتوبر تک معطل کرسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 495 قانون ساز، الیکشن کمیشن کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام

تاہم بعد میں انتخابی اصلاحات کے نام پر اس قانون میں ترمیم کی گئی اور آخری تاریخ کو توسیع دے کر 31 دسمبر کردیا گیا تھا لیکن 15 دن کی رعایتی مدت کا مطلب یہ ہے کہ 16 جنوری سے قبل ان کی رکنیت معطل نہیں کی جائے گی۔

الیکشن ایکٹ کی دفعہ 137 کے مطابق
  1. سینیٹ اور اسمبلیوں کا ہر رکن اپنی، اپنی شریک حیات اور 30 جون تک اپنے زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات ہر سال 31 دسمبر سے قبل الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔

  2. الیکشن کمیشن ہر سال جنوری کے پہلے دن پریس ریلیز کے ذریعے ان اراکین کے نام جاری کرے گا جنہوں نے مقررہ مدت تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائی ہوں گی۔

  3. اگر کوئی رکن اسمبلی اور سینیٹ 15 جنوری تک مذکورہ تفصیلات جمع نہیں کرائے گا تو الیکشن کمیشن 16 جنوری کو ان کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دے گا۔

  4. اگر کسی رکن کی جانب سے جمع کرائی گئی اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جھوٹی ثابت ہوئیں تو 120 دنوں میں اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جن 495 قانون سازوں نے الیکشن کمیشن کے پاس 31 دسمبر تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں ان میں وفاقی اور صوبائی وزرا اور آئینی عہدوں پر فائز دیگر افراد سمیت اہم سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں میں 'ممنوعہ ہتھیاروں' کی موجودگی کا انکشاف

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جو افراد اس قانونی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے ان میں قومی اسمبلی کے 166، سینیٹ کے 32، پنجاب اسمبلی کے 190، سندھ اسمبلی کے 82، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 85 جبکہ بلوچستان اسمبلی کے 40 اراکین شامل ہیں۔

اس کوتاہی کے مرتکب افراد میں سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔


یہ خبر 16 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔